ایبولا وائرس سے متاثرہ نرس کی حالت ’تشویش ناک‘

گذشتہ سال سیئرالیون میں ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والی سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی نرس پالین کیفرکی کی لندن میں علیحدہ یونٹ میں داخل کروائے جانے کے بعد ’حالت تشویش ناک‘ بتائی جا رہی ہے۔
این ایچ ایس گریٹر گلاسگو اینڈ کلائڈ نے تصدیق کی ہے کہ پالین کیفرکی کے پہلی وبا سے بچ جانے کے بعد ان کے جسم میں سے وائرس ابھی بھی موجود ہے۔
ان کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ان سے کسی دوسرے کو وائرس لگنے کا خطرہ نہیں ہے۔ 39 سالہ پالین کیفرکی کو لندن میں رائل فری ہسپتال کی علیحدہ وارڈ میں واپس لایا گیا۔
دسمبر 2014 میں وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انھوں نے تقریباً ایک ماہ کا عرصہ اس وارڈ میں گزارا تھا۔
این ایچ ایس گریٹر گلاسگو اینڈ کلائڈ کا کہنا ہے کہ پالین کیفرکی کو بیماری سے متاثرہ یونٹ میں علاج کے بعد حالت خراب ہونے کے بعد گلاسگو میں کوئین ایلزبتھ یونیورسٹی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
اس کے بعد ان کی بیماری میں ’غیر معمولی مشکلات‘ کی وجہ سے انھیں جمعے کو رائل فری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
این ایچ ایس جی جی سی کی ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر ایمیلیا کرائٹن کا کہنا ہے کہ ’پالین کی حالت میں خرابی کی وجہ ان کا ماضی میں ایبولا وائرس سے متاثر ہونا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دوسرے لوگوں کا اس وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ بہت کم ہے۔ عام طریقۂ کار کے مطابق ہم نے پالین کے کچھ قریبی لوگوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ اس وائرس کے حوالے سے ان کا بھی معائنہ کیا جا سکے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومتی ذرائع نے پالین کی خصوصی یونٹ میں منتقلی کو ’شدید احتیاطی طریقۂ کار‘ کہا ہے۔



















