امریکہ میں نگران طیارے کے لنگر سے الگ ہونے پر کھلبلی

 نگران طیارے کے نظام کو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی امریکی فوجی اڈوں اور دیگر حساس مقامات کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
،تصویر کا کیپشن نگران طیارے کے نظام کو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی امریکی فوجی اڈوں اور دیگر حساس مقامات کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
وقت اشاعت

امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کا میزائل حملوں کی نشاندہی کرنے والا نگران طیارہ ریاست میری لینڈ میں اپنے لنگر سے الگ ہونے کے بعد بحفاظت زمین پر اتر گیا ہے۔

یہ نگران طیارہ تین گھنٹے فضا میں تیرنے کے بعد پینسلوینیا کے علاقے منسی میں اتر گیا۔ لیکن اترتے وقت اپنے ساتھ بجلی کے تاروں کو گھسیٹتا ہوا لے گیا جس سے علاقے میں 18ہزار گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔

پرواز کے دوران دو جنگی طیارے اس کے پچھے اڑتے رہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ 200 فٹ لمبا یہ طیارہ میری لینڈ میں اپنے لنگر سے کس طرح علیحدہ ہوا۔

اس طیارے کو جوائنٹ لینڈ اٹیک کروز میزائل ایلیویٹڈ نیٹڈ سینسر سسٹم (جے لینز) کا نام دیا گیا ہے، جسے عام آدمی کی پرائیویسی کے حق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ 200 فٹ لمبا یہ طیارہ میری لینڈ میں اپنے ٹھکانے سے کس طرح علیحدہ ہوا
،تصویر کا کیپشنابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ 200 فٹ لمبا یہ طیارہ میری لینڈ میں اپنے ٹھکانے سے کس طرح علیحدہ ہوا

امریکی اخبار ’بالٹی مور سن‘ کی تحقیق کے مطابق یہ ’منصوبہ ناقص سافٹ ویئر، خراب موسم اور ناقابل اعتبار نتائج کی بدولت مسائل کا شکار ہے۔‘

ٹوئٹر پر کئی سالوں سے اس طیارے پر تنقید کرنے والے اکاؤنٹس پر بھی اس ناکامی پر فوری ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اس نگران طیارے کے نظام کو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی امریکی فوجی اڈوں اور دیگر حساس مقامات کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکہ کے وزیرِ دفاع ایش کارٹر کا کہنا ہے کہ ’میری معلومات کے مطابق اکثر افغانستان میں بھی کئی موقعوں پر جب یہ لنگر سے کٹ کر الگ ہو جاتا تو ہم اس کا رخ زمین کی جانب کر دیتے اور بہ حفاطت واپس لے آتے۔ لیکن خراب موسم میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے۔‘