حساس لیپ ٹاپس کی چوری کے بعد سی پی ایس پر جرمانہ

،تصویر کا ذریعہPA
برطانیہ میں معلومات کے نگراں ادارے نے کچھ ایسے لیپ ٹاپس کی چوری کے بعد کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) پر دو لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا ہے جن میں پولیس انٹرویوز کی ویڈیوز شامل تھیں۔
انفارمیشن کمشنر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کمپیوٹروں میں 31 تفتیشی ویڈیوز شامل تھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ لیپ ٹاپس میں موجود تفتیشی مواد میں کئی جنسی اور تشدد آمیز جرائم شامل تھے اور کچھ کیس ایک اعلیٰ عہدے دار پر لگائے گئے الزامات سے منسلک تھے۔
یہ لیپ ٹاپ تب چوری ہوئے جب ان پر مجرمانہ کارروائی میں استعمال کے لیے ایڈٹنگ کی جا رہی تھی۔
انفارمیشن کمشنر کے دفتر کے محکہ نفاذ کے سربراہ سٹیون ایکرسلی نے کہا کہ سی پی او نے ’لاپروائی‘ برتی ہے۔
سٹیون ایکرسلی نے کہا: ’انتہائی حساس ذاتی ڈیٹا والے پولیس انٹرویوز کی ویڈیوز کی حفاظت سی پی ایس کا کام ہے۔ سی پی ایس کو معلوم تھا کہ ان ویڈیوز میں ذاتی اور پریشان کن نوعیت کا ڈیٹا موجود ہے لیکن اس نے ان معلومات کی حفاظت کرنے میں لاپروائی برتی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی پی ایس کا کہنا ہے کہ اس نے مستقبل میں اس طرح کے مزید واقعات پیش آنے سے روکنے کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کر لیے ہیں۔
چوری کے وقت ستمبر سنہ 2014 میں کمپیوٹروں کو مانچسٹر شہر کے ایک رہائشی فلیٹ میں رکھا گیا تھا جسے سٹوڈیو کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
اگرچہ ان لیپ ٹاپس میں پاس ورڈ لگے ہوئے تھے لیکن انفارمیشن کمشنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ ان میں موجود ڈیٹا اینکرپٹ نہیں کیا گیا تھا اور فلیٹ کی سیکورٹی بھی ناکافی تھی۔



















