سیاہ فاموں کو حصص منتقلی کی تاریخ گذرگئی

زمبابوے میں تمام کمپنیوں کو اپنے حصص کا زیادہ حصہ سیاہ فام شہریوں کو منتقل کرنے کی مقررہ تاریخ گزر گئی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے لوگوں یا کمپنیوں نے ان احکامات پر عمل کیا ہے؟
حکومت کا کہنا تھا کہ ان کمپنیوں کو سنہ 2008 کے مقامی افراد کے لوگوں کو نمائندگی دینے کے قانون پر مارچ کے آخر تک عمل کرنا چاہیے۔
اُصولی طور پر کمپنی کی جانب سے قانون کی عدم تعمیل سے کمپنی اپنا لائسنس کھو سکتی ہے۔
یہ رابرٹ موگابے کی سنہ 2013 کی انتخابی مہم کا اہم حصہ تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ نوآبادیاتی دور میں سیاہ فام شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتاؤ گیا تھا۔
یہ قانون متنازع حیثیت اختیار کرگیا تھا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اِس سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے، جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے زمبابوے کے وزیر پیٹرک زہواؤ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ملک میں کام کرنے والے زیادہ تر غیر ملکی بینکوں اور کان کنی کی کمپنیوں نے اپنے حصص کی منتقلی کے لیے منصوبے جمع نہیں کرائیں ہیں۔
اُن کے خیال میں وہ جلد ہی منصوبے جمع کرادیں گے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیٹرک کا کہنا تھا کہ اُن کی وزارت ’کمپنیوں کی جانب سے جمع کرائی جانے والی گزارشات کو دیکھ رہی ہے اور اُن کے پاس ابھی تک اِس حوالے سے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں کہ کن کمپنیوں نے اِس قانون پر عمل کیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زمبابوے میں کام کرنے والے غیر ملکی بینکوں میں سٹینڈر چارٹرڈ اور بارکلے بھی شامل ہیں، اِس کے علاوہ زمبابوے میں اینگلو امریکن پلاٹینیئم اور امپالا پلا ٹینیئم بھی کام کررہی ہیں۔
تشویشناک صورتِ حال

بی بی سی افریقہ کے بزنس رپورٹ ایڈیٹر میتھیو ڈیوس کا کہنا ہے کہ دو سال قبل قانون پر عملداری کی کوششوں کو بڑے پیمانے پر مسترد کردیاگیا تھا لیکن اِس بار حکومت ممکنہ طور پر کارروائی کر رہی ہے۔
کاروبار کے لیے مقامی افراد کو حصص کی منتقلی کے منصوبے سے ملک کے لینڈ ریفارم پروگرام کے بارے میں آوازیں اُٹھی ہیں، جس کا آغاز سنہ 2000 میں کیا گیا تھا۔
اُس وقت سفید فام کسانوں کی ملکیت والے تقریباً 4,500 کھیتوں کو زمبابوے کے تقریباً 170,000 سیاہ فام خاندانوں میں تقسیم کرنے کے عمل کا آغاز کیا گیا تھا۔
اِس عمل کو زمبابوے کی معاشی تباہی کا سبب بھی قرار دیا گیا تھا۔
برطانیہ کی سسیکس یونیورسٹی کی جانب سے سنہ 2010 میں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اِس کے کچھ مثبت اثرات بھی ہیں اور اِس کے مکمل طور پر ناکام ہونے کی باتیں فرضی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اِس وقت زمبابوے شدید خشک سالی کے اثرات پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔



















