’خواتین سے ہاتھ ملانا خلافِ عقیدہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہThinkstock
سوئٹزرلینڈ کے ایک سیکنڈری سکول میں دو مسلمان لڑکوں کو خواتین اساتذہ سے ہاتھ نہ ملانے کی اجازت دینے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
سوئس سکولوں میں ہاتھ ملانا سلام کا عام طریقہ ہے۔
ایک چھوٹے شمالی قصبے تھروِل کے سکول میں ان دو لڑکوں نے کہا تھا کہ خاندان سے باہر کی خواتین سے ہاتھ ملانا ان کے عقیدے کے خلاف ہے۔
وزیر انصاف سمونیتھا سومرگا کا کہنا تھا کہ ہاتھ ملانا سوئس تہذیب اور روز مرہ زندگی کا حصہ ہے۔
مقامی اساتذہ کی یونین کا کہنا ہے کہ یہ استثنیٰ عورتوں کے خلاف تعصب ہے۔
اس واقعے نے تھروِل کے اس قصبے کو قومی سطح پر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ علاقے میں اس طرح کا ایک دوسرا واقعہ بھی رپورٹ کیا گیا تھا۔
سکول کی جانب سے 14 اور 15 سال کے ان لڑکوں کو یہ رعایت دیے جانے کی بہت کم حمایت کی گئی۔ یہ لڑکے کئی برسوں سے سوئٹزر لینڈ میں مقیم ہیں۔
سوئس کانفرنس آف کینٹونل منسٹرز آف ایجوکیشن، کے کرسچین ایمسلر کا کہنا تھا کہ ’سکول انتظامیہ اس ناخوشگوار واقعے سے گریز بھی کر سکتی تھی لیکن انھوں نے ایک غلطی کر دی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوئس پارلیمان میں تعلیم کے کمیشن کے سربراہ فیلیکس موری کا کہنا تھا کہ ’مصافحہ کرنا احترام کی علامت ہوتا ہے۔ آج یہ ہاتھ ملانے کا واقعہ ہوا ہے کل کیا ہوگا۔‘
مسلمان تنظیمیں بھی سکول کے اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔
تاہم ایک چھوٹے اسلامک سنٹرل کونسل کا کہنا ہے کہ اسلام میں مرد اور عورت کا ہاتھ ملانا منع ہے۔
کونسل کے ترجمان قاسم علی نے سوئس میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نئے سال کی تقریبات کے موقعے پر کولون حملوں کے بعد مسلمانوں کو عورتوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اور اب کہا جا رہا ہے کہ وہ ان کے قریب آئیں۔‘
سکول نے مشکل کا حل یہ نکالا تھا کہ یہ دونوں لڑکے نہ مردوں سے ہاتھ ملائیں گے نہ عورتوں سے۔
مقامی حکام کے بقول گو کہ سکول نے حقیقت پسندی کا ثبوت دیا لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں تھا کیونکہ تمام طلبہ کے لیے اصول ایک جیسے ہونے چاہییں۔



















