ایکواڈور زلزلہ: ہلاکتیں 410 سے زیادہ، مزید اضافے کا خدشہ

،تصویر کا ذریعہAFP
لاطینی امریکہ کے ملک ایکواڈور کے حکام کے مطابق ملک میں سنیچر کی شام آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 413 ہوگئی ہے جبکہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس سے ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
* <link type="page"><caption> ایکواڈور میں آنے والے زلزلے کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2016/04/160417_ecuador_earth_quake_pics_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
اسے ایکواڈور کی حالیہ تاریخ کا بدترین زلزلہ قرار دیا جا رہا ہےاور ملک کے صدر رافیئل کوریا نے کہا ہے کہ یہ گذشتہ سات دہائیوں میں ملک پر ٹوٹنے والی سب سے بڑی آفت ہے۔
متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں کی تعمیرِ نو اور متاثرین کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر درکار ہیں۔
زلزلے سے ملک کے شمال مغربی ساحلی علاقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور سینکڑوں مکانات منہدم ہوئے ہیں جبکہ سڑکیں اور بجلی کا نظام تباہ ہوگیا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں شرکت کے لیے مقامی کارکنوں کے علاوہ جنوبی امریکہ کے دیگر ممالک سے بھی ٹیمیں ایکواڈور پہنچی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
حکام کے مطابق اس وقت ساڑھے 13 ہزار سے زیادہ کارکن امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جن میں سے 400 غیر ملکی ہیں۔
امدادی کارکنوں نے مانتا نامی قصبے میں منہدم ہونے والے ایک ہوٹل کے ملنے سے چھ افراد کو زندہ نکالا ہے جن میں تین سال اور نو ماہ عمر کی دو بچیاں بھی شامل ہیں۔
ایکواڈور کے صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان میں تیزی آنے کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔
ٹی وی پر قوم سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ملبہ اٹھا رہے ہیں اور مجھے خدشہ ہے کہ ( ہلاک شدگان کی) تعداد بڑھے گی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہاں جہاں ملبے سے زندگی کے آثار مل رہے ہیں ان مقامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اس زلزلے سے پورٹوویجو اور پیڈرنالیس نامی دو ساحلی قصبات سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور پیر کو پیڈرنالیس کے میئر گیبریئل الکیوار نے کہا ہے کہ ’پورا قصبہ‘ ہی ملیامیٹ ہوگیا ہے اور صرف اس قصبے میں ہلاکتیں 400 ہو سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تین لاکھ آبادی والے قصبے پورٹوویجو میں زندہ بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ منہدم شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی لاشوں سے اٹھنے والی بو نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔
ان دونوں قصبات میں سینکڑوں افراد نے پیر کی شب کھلے آسمان تلے گزاری ہے جبکہ کچھ علاقوں سے اشیائے ضرورت کی لوٹ مار کی بھی اطلاعات ہیں۔
حکام نے چھ صوبوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے نیشنل گارڈز کو متحرک کر دیا ہے۔
ایکواڈور کے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں میں مقامی افراد کے علاوہ غیر ملکی بھی شامل ہیں جن کا تعلق شمالی آئرلینڈ، کینیڈا اور امریکہ سے بتایا گیا ہے۔
اس زلزلے کا مرکز موزین شہر کے آس پاس کا علاقہ تھا جس سے نہ صرف 160 کلو میٹر دور دارالحکومت کیوٹو میں عمارتیں ہل گئیں بلکہ اس کے جھٹکے ہمسایہ ملک کولمبیا تک محسوس کیے گئے۔



















