فلپائن کے باکسر پیکاؤ سیاست کے میدان میں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلپائن کے مشہور باکسر مینی پیکیاؤ نے سیاسی کریئر شروع کرنے کی غرض سے باکسنگ کے رنگ کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔
وہ پہلے ہی فلپائن کی کانگریس کے رکن ہیں اور اب اگلے ہفتے سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
پیکیاؤ فلپائن میں بےحد مقبول ہیں۔ آئی ٹی ورکر رچرڈ مونٹیری کہتے ہیں: ’جب بھی مینی پیکیاؤ کا مقابلہ ہوتا ہے تو گلیاں ویران ہو جاتی ہیں اور جرائم کی شرح صفر ہو جاتی ہے کیونکہ پوری قوم ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اپنے کام کاج چھوڑ دیتی ہے۔‘
تاہم یہ سفر آسان نہیں ہو گا۔ باکسنگ کوچ ایڈیل کہتے ہیں: ’پیکیاؤ مین عالمی چیمپیئن ہیں، لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ اسے (باکسنگ میں کامیابی کو) سیاسی میدان میں منتقل کر پائیں گے۔ یہ بہت پیچیدہ کام ہے۔‘
پیکیاؤ کے سیاسی عزائم بہت بلند ہیں اور انھوں نے ایک دن فلپائن کا صدر بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ وہ خارجہ پالیسی کے نازک مسائل سے کیسے نمٹ پائیں گے۔
ایک طالبِ علم لوئی کہتے ہیں: ’باکسنگ اور سیاست آپس میں نہیں ملتے۔ مینی پیکیاؤ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جو کام وہ رنگ میں کرتے ہیں ملک کی قیادت اس سے مختلف چیز ہے۔‘
پیکیاؤ اپنی بات کسی لگی لپٹی کے بغیر کہتے ہیں۔ فروری میں انھوں نے کہا تھا کہ ہم جنس پرست ’جانوروں سے بدتر ہیں‘ جس پر خاصی لے دے ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
لوئی نے کہا: ’میں انھیں بطور باکسر بہت پسند کرتا ہوں، لیکن کیا فلپائن کے صدر کا یہ طور طریقہ ہونا چاہیے؟ یہ چیز ہمارے معاشرے کی بری عکاسی کرتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طالبہ جولی فرانسسکو کہتی ہیں: ’فلپینو مینی سے پیار کرتے ہیں۔ وہ ہمارے ملک کے لیے فخر و عزت لے کر آئے ہیں۔ انھوں نے بڑے بڑوں کو شکست دی ہے، لیکن کیا وہ بدعنوانی کو ہرا سکتے ہیں؟ یہ اصل سوال ہے۔‘



















