مصر: قاہرہ کے نواح میں آٹھ پولیس اہلکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت قاہرہ کے نواح میں آٹھ پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
یہ پولیس اہلکار اپنی وردی کے بجائے سادہ لباس میں تھے۔
اتوار کی صبح ان کی سفید پولیس گاڑی کو شہر کے جنوبی ضلعے میں نشانہ بنایا گیا۔
وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ٹرک پر سوار چار مسلح افراد نے خود کار ہتھیاروں سے پولیس گاڑی پرگولیاں برسائیں۔
نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ عام طور پرتنظیم کے جنگجو سینا جزیرہ نما میں سرگرم ہیں۔
خیال رہے کہ سینا صوبے میں دولت اسلامیہ کے ایک دھڑے نے محمد مرسی کی جولائي سنہ 2013 میں حکومت کے خاتمے کے بعد سے سینکڑوں سکیورٹی اہلکار کو ہلاک کیا ہے۔
لیکن حال میں انھوں نے قاہرہ میں پولیس کو ٹارگٹ کیا ہے اور شہر میں چھوٹے پیمانے پر بمباری بھی کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی کے مشرق وسطی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ قاہرہ کے نزدیک اتنے پولیس والوں کی ہلاکت تشدد میں پریشان کن اضافہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنگجو تنظیم نے پولیس کی گولیوں سے چھلنی تصاویر آن لائن پر پوسٹ کی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق دولت اسلامیہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نقاب پوش حملہ آوروں نے پولیس والوں سے ہلکے ہتھیار چھینے ہیں اور وہ بغیر کسی نقصان کے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ یہ حملہ مصر کی جیلوں میں اسلام پسند خواتین کو ڈالنے کے بدلے میں کیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ یہ پولیس والے اس علاقے میں گشت کے لیے گئے تھے جب ان کی گاڑی کو ٹرک سے روکا گيا اور ان پر گولیاں چلائی گئیں۔
حکام کے مطابق مرنے والوں میں ایک لفٹیننٹ کے علاوہ سات کم درجے کے عہدے والے پولیس اہلکار تھے۔



















