فرانس میں طویل ترین لڑائی کی یادگاری تقریبات

،تصویر کا ذریعہ
فرانس کے صدر فرانسوا اولاند اور جرمن چانسلر انگلیلا میرکل پہلی جنگِ عظیم کی طویل ترین لڑائی ’جنگِ وردن‘ کے سو سال پورے ہونے کے سلسلے میں منعقد ہونے والی یادگاری تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔
پہلی جنگِ عظیم کے دوران فرانس کے شہر وردن میں دس ماہ تک لڑی جانے والی اس لڑائی میں فرانس کی فتح ہوئی تھی لیکن اس دوران ہزاروں جرمن اور فرانسیسی فوجی مارے گئے تھے۔
آج وردن کو فرانس اور جرمنی کے مابین مفامت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس موقعے پر دونوں رہنما یورپی ممالک میں قائم اتحاد کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیں گے۔
تقریبات کا آغاز دونوں رہنماؤں کی جانب سے وردن کے قریب واقع جرمن فوجیوں کے قبرستان کے دورے سے ہوا۔ اس موقعے پر فرانسیسی صدر اور جرمن چانسلر نے مرنے والوں کی یادگار پر پھول چڑھائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اتوار کو اس سلسلے میں منعقد ہونے والی ایک بڑی تقریب میں دونوں رہنما تقاریر بھی کر یں گے۔
یادگاری تقریبات کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو آگاہی فراہم کرنا ہے اور ان میں چار ہزار کے قریب فرانسیسی اور جرمن بچے شرکت کریں گے۔
خیال رہے کہ اس لڑائی میں کل چھ کروڑ گولے داغے گئے تھے جن میں سے تقریباً 25 فیصد پھٹ نہیں سکے تھے۔ یہ گولے آج بھی وہاں موجود ہیں، اور اسی وجہ سے یہ علاقہ اب بھی غیر آباد ہے۔
تقریبات سے قبل جرمن چانسلر میرکل کا کہنا تھا کہ ’ان تقریبات میں مجھے شرکت کی دعوت اس بات کی مظہر ہے کہ آج جرمنی اور فرانس کے باہمی تعلقات کتنے بہتر ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جرمن رہنما کا مزید کہنا تھا کہ یورپ نے مجموعی طور پر بہت پیش رفت کی ہے۔



















