سوئٹزرلینڈ میں بغیر کام تنخواہ کا منصوبہ ’مسترد‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک جائزے کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ووٹرز نے ہر ایک شہری کے لیے ایک طے شدہ آمدنی کی ضمانت کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔
ایک کمپنی جی ایف ایس کے سوئس ٹی وی کے لیے کیے جانے والے جائزے کے مطابق تقریباً 78 فیصد ووٹروں نے اس منصوبے کی مخالفت میں ووٹ ڈالے۔
اس تجویز میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ہر بالغ شخص کو ماہانہ ڈھائی ہزار سوئس فرینک (تقریباً 2555 ڈالر) ادا کیے جائیں خواہ وہ کوئی کام کرے یا نہ کرے۔
یہ دنیا میں پہلا ملک ہے جہاں اس طرح کے کسی معاملے پر ووٹ ڈالے گئے ہیں۔
اس تجویز کے علمبرداروں کا کہنا تھا کہ 21 ویں صدی میں زیادہ تر کام از خود ہو رہے ہیں اور لوگوں کے لیے کم نوکریاں بچی ہیں۔
لیکن ایک جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے صرف ایک چوتھائی لوگ ہی اس تجویز کے حق میں ہیں۔
بنیادی آمدنی کے ضابطے کے تحت اگر کوئی شخص ڈھائی ہزار سے زیادہ کماتا ہے تو اسے یہ اضافی رقم نہیں دی جائے گی۔
اس کے لیے سوئس سیاست دانوں کی جانب سے کوئی حمایت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی پارٹی اس کے حق میں آگے آئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ کام کرنے اور پیسہ کمانے کے درمیان کے رابطے کو ختم کرنا سماج کے لیے مفید نہیں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لیکن سوئٹزرلینڈ میں بنیادی آمدنی کی مہم میں شامل گروپ کے شے واگنر کا کہنا ہے کہ بہر حال یہ بغیر کسی کام کا پیسہ نہیں ہوگا۔
’سوئٹزرلینڈ میں 50 فی صد کام ایسے ہیں جن کی اجرت نہیں ہے۔ یہ لوگوں کی دیکھ بھال کرنے والے گھریلو کام ہیں۔ بنیادی آمدنی سے ان کاموں کی قدروقیمت میں اضافہ ہو گا۔‘
لیکن لوزی سٹیم، جو دائیں بازو کی جماعت سوئس پیپلز پارٹی سے رکن پارلیمان ہیں، اس کے خلاف ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’اصولی طور پر اگر سوئٹزرلینڈ کوئی جزیرہ ہوتا تو اس کا جواب ہاں تھا۔ لیکن کھلی سرحدوں کے ساتھ یہ بالکل ناممکن ہے۔ بطور خاص سوئزرلینڈ کے لیے جہاں معیار زندگی اونچا ہے۔
’اگر آپ سوئٹزرلینڈ کے ہر شہری کو ایک رقم دیتے ہیں تو اربوں لوگ یہاں آناچاہیں گے۔‘
فن لینڈ میں بھی اس خیال پر غور کیا جا رہا ہے کہ کم آمدنی والے آٹھ ہزار افراد کو ایک بنیادی آمدنی کی ضمانت حاصل ہو۔
اور نیدرلینڈز کے شہر الرخت بھی ایک تجرباتی پروگرام ترتیب دے رہا ہے جس پر سنہ 2017 سے عمل درآمد ہوگا۔
اتوار کو ہونے والے ووٹ میں بنیادی آمدنی پانچ مسائل میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ اس میں سرکاری خدمات کے لیے فنڈز اور پناہ گزینوں کی درخواستوں کو سہل بنائے جانے کی باتیں شامل ہیں۔



















