لانگ مارچ: ہیلی کاپٹر کے استعمال پر عدالت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے جواب مانگ لیا

Heli copter
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔

رواں ہفتے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اس وقت تنقید کی زد میں آئے جب اتوار کی دوپہر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے سہیل آفریدی پشاور سے لکی مروت سرکاری ہیلی کاپٹر پر پہنچے تھے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ظاہر خان نے ایڈووکیٹ یاسین رضا کے توسط سے وزیرِ اعلیٰ کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کرنے پر پشاور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست جمع کروائی تھی۔

جمعرات کے روز اس درخواست کی سماعت پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عریق شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ وزیر اعلی سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کر رہے ہیں۔

ایڈووکیٹ یاسین رضا کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ نے لکی مروت لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یاسین رضا نے بتایا کہ گذشتہ برس پشاور ہائی کورٹ نے نومبر 2025 میں ایک فیصلہ جاری کیا تھا جس میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ہی طرز کا ایک حکم حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ نے اس درخواست وزیر اعلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی اسی نوعیت کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ان کی جانب سے لندن کے نجی دورے کے لیے سرکاری طیارہ استعمال کیا گیا تھا۔

ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر تنازع کیوں ہوا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے میڈیا سیل کی جانب سے شائع کردہ ویڈیو میں سہیل آفریدی کو ہیلی کاپٹر پر لکی مروت پہنچتے ہوئے دکھایا گیا تھا جہاں اُن کے استقبال کے لیے پارٹی جھنڈے اٹھائے ہوئے کارکنان بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا آغاز اتوار کے روز لکی مروت سے ہوا تھا۔

اس لانگ مارچ کا مرکزی سٹیج ایک بڑا ٹرک ہے جس پر نصب پینا فلیکس پر ’عمران خان کو رہا کرو‘ کا نعرہ درج ہے جبکہ اس پر سابق وزیراعظم عمران خان کی مسکراتی ہوئی تصویر بھی آویزاں ہے۔

لکی مروت میں ہزاروں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے عوام سے ’پاکستان کی خاطر‘ گھروں سے نکلنے کی اپیل کی۔

تاہم پنڈال میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی سہیل آفریدی کی ہیلی کاپٹر پر پنڈال آمد کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا سرکاری ہیلی کاپٹر پر لانگ مارچ کی قیادت کے لیے گنڈی چوک (لکی مروت) پہنچنا توہینِ عدالت اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

Faisal Kundi, Mohsin Naqvi

گورنر کے مطابق ’جب وزیرِاعلیٰ خود عدالت کے احکامات کی پاسداری نہیں کریں گے اور سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال کریں گے، تو پھر ان کے کارکنوں سے قانون کی پاسداری کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔‘

تاہم جلد ہی یہ تنقید ہیلی کاپٹر تک محدود نہ رہی۔

سابق رُکن پارلیمان بشریٰ گوہر نے گورنر خیبرپختونخوا کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’محترم گورنر، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے صوبائی حکومت کو نظر انداز کرتے ہوئے گورنر ہاؤس میں صوبے کے معاملات پر کس حیثیت میں اجلاس کیا؟ چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کو اس اجلاس میں شرکت کی اجازت کس نے دی؟ ایک وفاقی وزیر صوبائی انتظامیہ کا کردار اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ یہ صوبائی خودمختاری اور انتظامی اختیارات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

دوسری جانب اتوار کی شام وفاقی وزیر داخلہ نے پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات کے بعد فیصل کنڈی نے ’ایکس‘ پر بتایا کہ ’ہم نے خیبر پختونخوا میں موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ہمارے عوام کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ خیبر پختونخوا نے پہلے ہی بہت قربانیاں دی ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ادارے مل کر عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔‘

اس معاملے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اپنی طنزیہ پوسٹ میں کہا کہ ’سہیل آفریدی صاحب کا آج پشاور سے لکی مروت تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر، غالباً سرکاری کام کے سلسلے میں تھا، جو ممکنہ طور پر سکیورٹی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔‘

صحافی علینہ شگری نے وفاقی وزیر داخلہ کی ’ایکس‘ پوسٹ پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’عوامی وسائل کا استعمال ذمہ داری سے ہونا چاہیے۔ لیکن کیا کوئی مجھے یہ بتا سکتا ہے کہ جب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز ایک فیملی تقریب کے لیے لاہور سے لندن سرکاری گلف سٹریم طیارے میں گئیں تو اس وقت محسن نقوی نے ایک بھی تنقیدی ٹویٹ کی؟ یقیناً کوئی نہایت اہم سرکاری مصروفیت بھی ہو گی، شاید اُن اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق جسے ملک میں لانے کے دعوے کیے جا رہے تھے۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اپنی مختصر ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’صوبے میں دہشت گردی پھیل رہی ہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ سنہ 2018 میں وزیر اعظم بننے سے قبل عمران خان بھی خیبر پختونخوا میں اپنی جماعت کے دورِ حکومت کے دوران صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی انکوائری کا حصہ رہ چکے ہیں۔

جبکہ وزارت عظمیٰ کے دور میں وزیر اعظم آفس سے بنی گالہ میں اپنی نجی رہائش گاہ آنے جانے کے لیے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر بھی اُن پر تنقید ہوتی تھی۔ اسی تنقید کے بعد اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا وہ بیان بھی موضوع بحث بنا تھا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ہیلی کاپٹر کا خرچ 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر میں پڑتا ہے۔‘