’دیوالیہ اور مقروض‘: سلطنتِ عثمانیہ کے آخری سلطان وحید الدین کی وفات کن حالات میں ہوئی؟

تصویر
    • مصنف, مارگریٹا روڈریگز
    • عہدہ, بی بی سی منڈو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

سلطان محمد ششم، وحید الدین، سلطنتِ عثمانیہ کے آخری سلطان تھے۔ انھوں نے کہا تھا: ’میں تختِ سلطنت کے نرم گدے پر نہیں بیٹھا، بلکہ آگ کی راکھ پر بیٹھا ہوں۔‘

وہ 1918 میں اپنے بھائی سلطان محمد پنجم رشاد کی وفات کے بعد تخت نشین ہوئے۔

وہ ایسی سلطنت کے وارث بنے تھے جو زوال کے دہانے پر کھڑی تھی اور جس کے ساتھ ہی تقریباً 600 برس پر محیط عثمانی سلطنت کی تاریخ اختتام کے قریب پہنچ رہی تھی۔

وہ ایک ایسی طاقتور سلطنت کے آخری حکمران تھے جس کا اقتدار اپنے عروج کے زمانے میں تین براعظموں تک پھیلا ہوا تھا۔

ترک مصنف کایا گینچ نے بی بی سی منڈو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’سلطنت ان کے حصے میں بہت برے وقت میں آئی۔‘

1922 کے استنبول میں محمد ششم کے آخری ایام کا تصور کرنا مشکل ہے۔

تاریخ دان ریان جنجراس نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ ان کے لیے واقعی ایک صدمہ خیز اور المیہ خیز لمحہ تھا۔ وہ تنہا تھے، ان کا کوئی دوست نہیں تھا اور ان کا محل خالی ہو چکا تھا۔‘

وہ ایک برطانوی جہاز پر سوار ہو کر ملک چھوڑ گئے، جبکہ ضروری نہیں کہ انھیں یہ معلوم ہو کہ ان کی آخری منزل کہاں ہوگی۔

بعض لوگوں کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ اس خاندان کا آخری سلطان، جس نے سلیمان اعظم، محمد فاتح اور سلیم اول جیسے حکمران پیدا کیے تھے، اتنا مقروض ہو کر مرا کہ قرضوں کی ادائیگی تک اس کا تابوت روک لیا گیا۔

اور یہ سب کچھ صرف 100 برس پہلے ہوا تھا۔

پیسے کی تلاش

محمد ششم 16 مئی 1926 کو دل کے عارضے کے باعث اٹلی میں وفات پا گئے، جہاں وہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

ترک نیوز ویب سائٹ ترکیہ ٹوڈے نے 2025 میں ’سلطان محمد ششم وحیدالدین کی زندگی: آخری عثمانی بادشاہ‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا۔

ترک محقق اکرم بوغرا ایکنجی کے مطابق سلطان کے پاس ’مزید کوئی رقم نہیں بچی تھی‘ اور انھیں اپنی دوائیں خریدنے کے لیے اعزازی تمغے اور اعزازات تک فروخت کرنا پڑے۔

قرضوں کی وجہ سے ’قرض خواہوں نے ان کے تابوت کو ضبط کر لیا‘ جس کے باعث تدفین میں تاخیر ہوئی۔

محمد ششم بر تخت سلطنت نشسته است و اطراف او درباریان و مقامات ایستاده‌اند
،تصویر کا کیپشن1918 کی ایک تصویر میں محمد ششم تخت پر بیٹھے ہیں جبکہ درباری اور حکام ان کے گرد کھڑے ہیں۔

لیکن کایا گینچ کے مطابق محمد ششم کی ایک بیٹی، صبیحہ سلطان، مطلوبہ رقم جمع کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور انھوں نے اپنے والد کی میت دمشق منتقل کروا کر وہاں دفن کروائی۔

محمد ششم کے اہلِ خانہ کے لیے مالی مشکلات ایک بڑا مسئلہ بن چکی تھیں۔

کایا گینچ نے کہا: 'نہ ان کے پاس کوئی سرپرست تھا اور نہ ہی ایسا کوئی شخص جو انھیں پیسے بھیجتا۔'

اپنے مضمون 'آخری عثمانی سلطان کا طویل سایہ' میں گینچ نے لکھا کہ موت اس وقت محمد ششم کے پاس آئی جب وہ 'دیوالیہ اور قرض میں ڈوبے ہوئے' تھے۔

انھوں نے کہا: 'ان کی موت افسوسناک اور تنہائی میں ہوئی۔'

تذبذب اور خوف

محمد ششم جنوری 1861 میں پیدا ہوئے اور اسی برس ان کے والد سلطان عبدالمجید اول وفات پا گئے۔

چند برس بعد ان کی والدہ بھی وفات پا گئیں۔

ترکیہ ٹوڈے کے مطابق سرپرستوں کی نگرانی میں پرورش پانے کے بعد وہ 'ایک دانا، معتدل مزاج اور دینی علوم سے واقف شخص' بنے۔

وہ چنگل کوئے میں واقع ایک محل نما رہائش گاہ میں نسبتاً پرسکون زندگی گزار رہے تھے، جو ان کے بھائی سلطان عبدالحمید دوم نے انھیں تحفے میں دی تھی۔

عکسی قدیمی و سیاه و سفید از سلطان محمد رشاد که با لباس رسمی سلطنت کنار میزی ایستاده و در برابر دوربین ژست گرفته است
،تصویر کا کیپشنسلطان محمد پنجم رشاد کی ایک سیاہ و سفید تصویر، جس میں وہ شاہی لباس میں ایک میز کے پاس کھڑے ہیں۔

لیکن جب محمد ششم کو سلطنت سنبھالنے پر مجبور کیا گیا تو ان کی پُرسکون زندگی کا دور ختم ہو گیا۔

میڈرڈ کی آتونومہ یونیورسٹی میں تاریخ اور بین الاقوامی مطالعات کی پروفیسر دارینا مارٹیکانووا نے بی بی سی کو بتایا: 'محمد ششم ایک نہایت مشکل صورتِ حال کے وارث بنے جسے وہ خود بھی زیادہ اچھی طرح سنبھال نہ سکے۔'

'وہ اس صورتحال کے لیے تیار نہیں تھے جس کا انھیں سامنا تھا، اگرچہ وہ نہ روزمرہ سیاست سے بے خبر تھے اور نہ ہی عیش پسند انسان تھے۔'

وہ 'اقتدار کے بھوکے' بھی نہیں تھے۔ اچانک انھوں نے خود کو ایسی صورتحال میں پایا جو ایک ٹائم بم کی مانند تھی۔

'یہ ابتدا ہی سے واضح تھا کیونکہ وہ سلطنت قبول کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ وہ نامزد جانشین تھے، لیکن انھیں اس عہدے کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ آخرکار انھوں نے اسے قبول کر لیا، مگر وہ بخوبی جانتے تھے کہ سلطنتِ عثمانیہ انتہائی خراب حالت میں ہے۔'

1909 میں نوجوان ترکوں کی فوجی انقلاب کے بعد عبدالحمید دوم کو معزول کر دیا گیا۔

تصویر
،تصویر کا کیپشنعبدالحمید دوم کی تصویر

اس کے علاوہ نئے سلطان کو بخوبی یاد تھا کہ عبدالحمید دوم کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسے حکمران تھے جنھیں 1908 میں نوجوان ترکوں کے انقلاب نے آئینی بادشاہت قبول کرنے پر مجبور کیا اور پھر 1909 میں تخت سے ہٹا دیا گیا۔

نوجوان ترکوں نے آئینی بادشاہت کی بحالی کے بعد عبدالحمید دوم کے بھائی محمد پنجم کو نیا سلطان مقرر کیا۔

نوجوان ترک، جو ایک قوم پرست اور اصلاح پسند سیاسی تحریک تھے، 1908 سے 1918 تک اقتدار میں رہے۔

'اِن دی شیڈو: اینگر اینڈ ریولوشن اِن ماڈرن ترکی' سمیت کئی کتابوں کے مصنف کایا گینچ کہتے ہیں: 'میرے خیال میں محمد ششم اس بات سے ذہنی طور پر متاثر تھے کہ نوجوان ترکوں نے ان کے خاندان کے ساتھ کیا کیا تھا، اور وہ اس بات سے خوفزدہ تھے کہ شاید ان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو۔'

وہ سلطنت جو انھیں ورثے میں ملی

محمد ششم جولائی 1918 میں ایک آئینی بادشاہ کی حیثیت سے تخت نشین ہوئے۔

پہلی عالمی جنگ نے سلطنتِ عثمانیہ کو تباہ کر دیا تھا۔

عثمانی سلطنت اس جنگ میں جرمن سلطنت اور آسٹریا۔ہنگری سلطنت کی اتحادی تھی۔

امریکہ کے نیول وار کالج کے پروفیسر اور کتاب 'دی لاسٹ ڈیز آف دی اوٹومن ایمپائر' کے مصنف ریان جنجراس کہتے ہیں کہ جب محمد ششم تخت پر بیٹھے تو دو باتیں ان کے لیے بالکل واضح تھیں:

'پہلی یہ کہ وہ ایسی سلطنت کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے جو ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر تھی، اور دوسری یہ کہ ان کے پاس درحقیقت بہت کم اختیارات تھے۔'

تصویر
،تصویر کا کیپشن1914 میں پہلی عالمی جنگ کے دوران سلطنتِ عثمانیہ کے پیادہ فوجی۔

کایا گینچ کہتے ہیں کہ محمد ششم کی تاجپوشی کے چند ماہ بعد سلطنتِ عثمانیہ نے پہلی عالمی جنگ میں اپنی شکست تسلیم کر لی۔

چند ہی دن بعد حکومت تحلیل ہو گئی اور نوجوان ترکوں کی جماعت، کمیٹی اتحاد و ترقی، بکھر گئی۔

صورتحال میں اس تبدیلی نے نئے سلطان کو محدود حد تک سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا، لیکن یہ آسان نہ تھا۔

عثمانی سلطنت نہ صرف جنگ ہار چکی تھی بلکہ معاشرہ بھی بکھر چکا تھا۔

گینچ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں: 'استنبول انتشار کے دہانے پر تھا، بنیادی غذائی اشیا نایاب تھیں، ایندھن راشن بندی کے تحت مل رہا تھا اور بجلی بار بار بند ہو رہی تھی۔'

اتحادی افواج کی موجودگی نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔

گینچ نے بی بی سی منڈو سے کہا: 'کئی برس تک برطانوی، اطالوی اور فرانسیسی فوجی استنبول میں موجود رہے اور کسی کو ٹھیک طرح معلوم نہیں تھا کہ سلطان کیا چاہتے ہیں۔ کیا وہ ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں، برطانیہ کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں یا اس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں؟'

ایک فیصلہ

جنجراس کہتے ہیں کہ محمد ششم، دارالحکومت میں اپنے چند اتحادیوں کی حمایت سے، دو چیلنجوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے: ایک طرف بیرونی قبضہ تھا اور دوسری طرف اسی قبضے کے خلاف بڑھتی ہوئی بغاوت۔

'وہ مکمل طور پر قبضے کے سامنے نہیں جھکے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ بغاوت کے ساتھ بھی تھے، خاص طور پر اس لیے کہ اس کی قیادت سابق حکومت کے ارکان، یعنی نوجوان ترکوں کے ہاتھ میں تھی۔'

اسی ماحول میں مصطفیٰ کمال اتاترک آزادی کی قوم پرست تحریک کی مرکزی شخصیت بن کر ابھرے۔

یہ تحریک غیر ملکی افواج کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہی تھی۔

تصویر
،تصویر کا کیپشنمصطفیٰ کمال اتاترک جمہوریہ ترکی کے پہلے صدر بنے اور انھیں 'جدید ترکی کے بانی' کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

1920 میں سلطان نے عثمانی نمائندوں کو اجازت دی کہ وہ پہلی عالمی جنگ میں فاتح اتحادی طاقتوں کے ساتھ معاہدۂ سیورے پر دستخط کریں۔

جنجراس کہتے ہیں: 'انھوں نے دو وجوہ کی بنا پر اس معاہدے پر دستخط کیے۔ پہلی یہ کہ انھیں لگتا تھا کہ اس سے جنگ کا معاملہ طے ہو جائے گا، اور دوسری یہ کہ اس سے مصطفیٰ کمال کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کا خاتمہ ہو جائے گا۔'

'لیکن یہ فیصلہ آخرکار ان کے لیے ایک حقیقی تباہی ثابت ہوا۔'

اس ماہر کے مطابق اس معاہدے کے نافذ ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔

یہ فیصلہ 'نہ صرف باغیوں بلکہ عوام کے ایک بڑے حصے کی نظر میں بھی ان کی ساکھ تباہ کر گیا، کیونکہ یہ عملاً ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھا اور سلطنتِ عثمانیہ کے باقی ماندہ بڑے حصے کو برطانیہ، فرانس، اٹلی، یونان اور آرمینیا کے حوالے کر رہا تھا۔'

یہ معاہدہ کبھی منظور نہ ہو سکا اور 1923 میں اس کی جگہ معاہدۂ لوزان نے لے لی، جس نے جمہوریہ ترکی کی سرحدوں کو تسلیم کیا۔

محمد ششم کی پوزیشن، خصوصاً قوم پرست تحریک کی مذمت کے بعد، مزید برقرار نہیں رہ سکتی تھی۔

ان کے ملک میں بہت سے لوگ انھیں غدار سمجھتے تھے جو کھلے عام سلطنتِ برطانیہ کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے۔

تاہم بعض مورخین ان کے طرزِ عمل کو عثمانی ریاست کو بچانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

ترکیہ ٹوڈے کے مطابق: 'سلطان نے مزید تباہی سے بچنے کی امید میں برطانیہ کے ساتھ تعاون کی کوشش کی کیونکہ انھیں یقین تھا کہ امن تک پہنچنے کا یہی واحد راستہ ہے۔'

1922 میں کمال کی قیادت میں بغاوت کامیاب ہوئی اور غیر ملکی افواج کو ملک سے نکال دیا گیا۔

یکم نومبر اسی سال انقرہ کی قومی اسمبلی میں قوم پرست رہنما جمع ہوئے اور سلطان کو معزول کر کے سلطنت کے خاتمے کا فیصلہ کیا۔

محمد ششم نے اپنے ممکنہ انجام کے خوف سے 17 نومبر کو برطانوی مدد سے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

تصویر
،تصویر کا کیپشنمحمد ششم سنہ 1918 میں سلطنت کے تخت پر بیٹھے۔

وہ اپنے بیٹے اور چند قریبی افراد کے ساتھ، جو کچھ بھی اپنے ساتھ لے جا سکتے تھے لے کر جہاز پر سوار ہوئے اور دسمبر میں مالٹا پہنچ گئے۔

جنجراس کہتے ہیں: 'انھوں نے اپنی باقی زندگی اٹلی کے رویرا علاقے میں گزاری، اس حال میں کہ وہ اپنی سابقہ عظمت کا محض ایک سایہ رہ گئے تھے۔'

پروفیسر مارٹیکانووا کہتی ہیں: 'یہ کوئی شاہانہ جلاوطنی نہیں تھی۔'

محمد ششم نہایت مذہبی تھے اور انھوں نے درخواست کی کہ انھیں کسی ایسے ملک میں رہنے کی اجازت دی جائے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو۔

'لیکن برطانویوں نے یہ درخواست قبول نہیں کی کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ وہ ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں اور ممکن ہے بغاوت پر اتر آئیں۔'

خود محمد ششم بھی اس نتیجے پر پہنچے کہ اسلامی مقدس مقامات کے قریب رہنے کی ان کی خواہش لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے کہ وہ 'برطانویوں کے کٹھ پتلی' ہیں، یا شاید واقعی ایسے بن جائیں۔

گینچ کا خیال ہے کہ ترکی کی نئی قیادت نے سلطان کو جلاوطن ہونے کی اجازت دے کر 'سوچی سمجھی حکمتِ عملی' اختیار کی۔

تصویر
،تصویر کا کیپشنمحمد ششم ترکی میں اپنی آخری عوامی سرگرمیوں میں سے ایک کے دوران، 1922 میں مالٹا روانگی سے قبل۔

نہ کوئی مقدمہ چلا، نہ انھیں قید کیا گیا اور نہ ہی شاہی خاندان میں خونریزی ہوئی۔

'بس انھیں عزت کے ساتھ ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی۔'

'لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ واپسی ممکن نہیں ہو گی، کیونکہ ایک جمہوری ریاست میں قانونی طور پر اب وہ کسی چیز کے مالک نہیں رہے تھے۔'

'ان کی تمام جائیدادیں اور اثاثے ضبط کر لیے گئے اور وہ اپنی دولت ساتھ نہیں لے جا سکے۔'

'یہ آخری سلطان کے لیے ایک مشکل لمحہ تھا۔ وہ اپنے خاندان کا زوال اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے جو صدیوں تک دولت اور شان و شوکت میں زندگی گزارتا رہا تھا۔'

'کچھ لوگ اسے تاریخی انصاف سمجھ سکتے ہیں کہ اتنے عظیم آباؤ اجداد رکھنے والا آخری سلطان غربت کی زندگی جینے پر مجبور ہو گیا۔'

جمہوریہ ترکی 29 اکتوبر 1923 کو قائم ہوئی۔

محمد ششم اپنی نئی قیام گاہ میں کچھ عرصہ بینیٹو موسولینی کی سرپرستی میں رہے۔ موسولینی انھیں 'عظیم عثمانی شہنشاہ' کہا کرتا تھا۔

لیکن محمد ششم نے کبھی واقعی خود کو محفوظ محسوس نہیں کیا۔

گینچ کہتے ہیں: 'وہ اپنی جیب میں ریوالور رکھتے تھے۔ میرے خیال میں انھیں ہمیشہ قتل کیے جانے کا خوف رہتا تھا، کیونکہ اس دور میں دنیا بھر میں بادشاہت مخالف جذبات عام تھے۔'

ایک روایت جو ختم ہو گئی

یہ حقیقت کہ سلطنتِ عثمانیہ کے آخری سلطان قرض دار حالت میں وفات پائے، کئی عوامل کا نتیجہ تھی۔

ان میں سے ایک عامل کئی صدیوں پرانا تھا، جب عثمانی سلاطین نے دوسرے شاہی خاندانوں کی شہزادیوں سے شادی کرنے کی روایت ترک کر دی۔

مارٹیکانووا کہتی ہیں کہ 16ویں، 17ویں اور 18ویں صدی میں، 'اس دور کے دوران جب عثمانی سلطنت ایک عظیم سلطنت بن چکی تھی'، یہ روایت آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔

وہ وضاحت کرتی ہیں کہ عثمانی سلطنت کے ابتدائی ادوار میں، جب سلطنت پھیل رہی تھی، سلاطین مختلف شاہی خاندانوں کی شہزادیوں سے شادیاں کرتے تھے، جن میں بازنطینی اور بلقانی شہزادیاں اور اناطولیہ کی چھوٹی مسلمان ریاستوں کی خواتین بھی شامل تھیں۔

ان میں سے بعض شادیاں سیاسی اور تزویراتی مقاصد کے تحت کی جاتی تھیں۔

مثال کے طور پر اتحاد قائم کرنے یا مضبوط کرنے کے لیے علاقائی حکمرانوں کی بیٹیوں کو سلاطین کی شریکِ حیات بنایا جاتا تھا۔

ترکی کی مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی کی تاریخ دان اور پروفیسر ابرو بویار نے 2023 میں بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ میں، جو عثمانی سلطنت میں جانشینی کے عمل میں لونڈیوں اور کنیزوں کے کردار پر تھی، اس موضوع کی وضاحت کی تھی۔

لیکن ایک وقت ایسا آیا جب سلاطین نے ترجیح دی کہ ان کے بچوں کی مائیں حرم کی خواتین ہوں۔

بویار کے مطابق اس طرح انھوں نے ان خواتین کو پسِ پشت ڈال دیا جو مخصوص خاندانوں سے وابستگی کی وجہ سے روابط اور 'سیاسی فائدہ' رکھتی تھیں، مثلاً کسی امارت کے حکمران کی بیٹی۔

مارٹیکانووا کہتی ہیں کہ اس تبدیلی کے طویل المدتی نتائج نکلے۔

ان کے مطابق یورپی شاہی خاندانوں جیسے باہم منسلک شاہی سلسلوں میں، یہ باعثِ شرمندگی سمجھا جاتا تھا کہ کوئی دور کا رشتہ دار، جو کبھی کسی ملک کا حکمران رہا ہو، اقتدار سے محروم ہونے کے بعد غربت میں زندگی گزارے۔

'اسی لیے وہ اس کی جلاوطنی کے اخراجات برداشت کرتے تھے تاکہ وہ نسبتاً آسودہ زندگی گزار سکے۔'

تصویر
،تصویر کا کیپشنمحمد ششم نے کہا تھا: 'میں تختِ سلطنت کے نرم گدے پر نہیں بیٹھا، بلکہ آگ کی راکھ پر بیٹھا ہوں۔'

لیکن عثمانی خاندان کے یورپی شاہی خاندانوں سے ایسے روابط باقی نہیں رہے تھے۔

'ان کے ایسے رشتہ دار نہیں تھے جو کہیں حکمرانی کر رہے ہوں اور انھیں مالی مدد بھیج سکیں۔'

'جب جلاوطنی آتی ہے تو ان کے پاس کوئی ایسا نہیں ہوتا جو ان کی مدد کر سکے۔'

جب محمد ششم اپنے خاندان کے ساتھ ترکی سے روانہ ہوئے تو کسی دوسرے ملک میں ان کا کوئی بااثر رشتہ دار موجود نہیں تھا جو ان کے کام آ سکتا۔

تاہم مارٹیکانووا اس بات پر زور دیتی ہیں کہ سلطان کی صورتحال کو درست تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

وہ کہتی ہیں: 'ان کی غربت نسبتی تھی۔ اس زمانے میں لوگ عمومی طور پر کہیں زیادہ غربت میں زندگی گزار رہے تھے۔'

یہ ایک سابق شہنشاہ کی غربت تھی، ایسے شخص کی جو اب سلطنت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم ہو چکا تھا اور اپنے خاندان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور تھا۔

تاہم وہ تسلیم کرتی ہیں کہ 'ان کی زندگی کا آخری مرحلہ نہایت افسوسناک اور انتہائی پیچیدہ تھا۔'