یوکرینی ڈرون کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود، روس کے ’شاہد ڈرون‘ کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگیا: سٹار لنک جنگ میں کیوں اہم ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ٹام میک آرتھر اور ٹفنی ورتھائمر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ سٹارلنک کی جانب سے رفتار پر عائد کی گئی پابندیوں سے روسی ڈرونز کو تباہ کرنے کی ان کے ملک کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں لوگ مر رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کے زیرِ انتظام سٹارلنک نیٹ ورک نے حال ہی میں یوکرینی ڈرونز کے لیے انٹرنیٹ کی رفتار پر حد مقرر کی ہے، جس کے باعث یوکرین کے مطابق اس کی دفاعی صلاحیت کو دھچکا پہنچا ہے۔
برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا: ’ہم اُن جیٹ شاہد ڈرونز کو گرانے کے لیے سٹارلنک استعمال کرتے ہیں جو ہمارے شہریوں پر حملے کرتے ہیں اور ان کی جانیں لیتے ہیں۔‘
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے یوکرینی صدر نے کہا کہ ان کے ملک کی فوج روسی شاہد ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے جو ڈرونز استعمال کرتی ہے، وہ سٹارلنک سے منسلک ہو کر تیز رفتاری سے سفر کرتے ہیں اور ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔
ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق جیٹ انجن سے چلنے والے روسی ڈرون 400 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے پرواز کرتے ہیں، جبکہ سٹارلنک نے وہ زیادہ سے زیادہ رفتار محدود کر دی ہے جس پر یوکرینی ڈرون انٹرنیٹ سے منسلک رہ سکتے ہیں۔
زیلنسکی نے مزید کہا: ’ہم لوگوں کو نہیں بچا سکے، اور یہ بہت تکلیف دہ ہے۔‘
زیلنسکی کے ان تبصروں سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ سٹارلنک میدانِ جنگ میں یوکرین کے لیے اتنا اہم کیوں ہے اور رفتار پر عائد کی گئی حد نے عملی طور پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کے زیرِ انتظام سٹارلنک سٹارلنک سیٹلائٹس تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرتے ہیں، اور جدید جنگ اسی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یوکرین کے لیے یہ میدانِ جنگ میں رابطے اور مؤثر ڈرون جنگ کے لیے نہایت اہم ہے۔
سٹارلنک کے استعمال سے یوکرینی ڈرون روایتی ریڈیو نیٹ ورکس کے مقابلے میں زیادہ فاصلے تک آپریٹرز سے منسلک رہ سکتے ہیں اور دشمن کے لیے ان کا رابطہ منقطع کرنا بھی نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔
لیکن جس رفتار پر ڈرون انٹرنیٹ کنکشن برقرار رکھتے ہوئے پرواز کر سکتے تھے، منگل کی رات سٹارلنک نے اچانک اور غیر متوقع طور پر اس رفتار کو محدود کر دیا۔
ایک اعلیٰ سطح یوکرینی عہدیدار کے مطابق اس سے میدانِ جنگ کے بعض مشن متاثر ہوئے اور کیئو کی روسی حملوں سے اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت بھی کمزور ہوئی۔
ڈرون کی رفتار پر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حد مقرر کرنےکا مطلب یہ تھا کہ اس سے زیادہ رفتار سے سفر کرنے والا کوئی بھی ڈرون رابطہ کھو دیتا ہے اور عملاً بے کار ہو جاتا ہے۔
نیٹو میں امریکہ کے سابق سفیر کرٹ وولکر نے بی بی سی کے ریڈیو فور ٹوڈے پروگرام کو بتایا: ’سٹارلنک یوکرین کو یہ صلاحیت دیتا ہے کہ وہ آنے والے خطرات کو دیکھ سکے اور لوگوں کا تحفظ کر سکے۔ اگر آپ یہ سہولت بند کر دیں تو مزید لوگ مارے جائیں گے، اور جس طریقے سے یہ رفتار کم کی گئی، وہ ایک انتہائی بے رحم اور سنگ دلانہ فیصلہ ہے۔‘
اس اقدام نے ایک بار پھر ظاہر کیا ہے کہ سٹارلنک اس تنازع پر کس قدر اثر انداز ہو سکتا ہے، جو فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز سے جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سٹارلنک اور سٹارشیلڈ کیا ہیں؟
سٹارلنک ایک انٹرنیٹ نیٹ ورک ہے جو زمین کے نچلے مدار میں موجود سیٹلائٹس استعمال کرتے ہوئے رابطہ فراہم کرتا ہے، خاص طور پر دور دراز علاقوں اور میدانِ جنگ میں۔
اس وقت یہ 10 ہزار سے زیادہ فعال سیٹلائٹس پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے سٹارلنک سیٹلائٹس کا دنیا کا سب سے بڑا مجموعہ ہے۔
یہ ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کی ملکیت ہے اور کمپنی کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
جہاں سٹارلنک شہری استعمال کے لیے ہے، وہیں فوجی استعمال کے لیے سٹارشیلڈ کے نام سے ایک اور ادارہ بنایا گیا ہے، جو پینٹاگون کے لیے کام کرتا ہے۔
سٹارشیلڈ، سٹارلنک نیٹ ورک پر ہی چلتا ہے، لیکن اس کی سکیورٹی زیادہ مضبوط ہوتی ہے، تاکہ حساس معلومات محفوظ طریقے سے منتقل کی جا سکیں۔
امریکی حکومت نے روس کے خلاف دفاع میں یوکرین کو سٹارلنک اور سٹارشیلڈ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ فروری میں ایلون مسک نے ماسکو کی اس سروس تک رسائی ختم کر دی تھی، جس سے اس تنازع میں کیئو کو برتری حاصل ہوئی۔
میدانِ جنگ میں سٹارلنک کیسے کام کرتا ہے؟
سادہ الفاظ میں، سٹارلنک اپنے ہزاروں سیٹلائٹس کے ذریعے زمین کے تقریباً ہر حصے تک تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچاتا ہے۔ سٹارلنک کا انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے صارفین کو ایک ٹرمینل خریدنا پڑتا ہے جسے وہ خود ہی آسانی سے نصب کر سکتے ہیں۔
سٹارلنک کا ٹرمینل لگانے کا طریقہ بتاتے ہوئے ایلون مسک نے کہا تھا، ان کے لیے صرف دو ہدایات ہیں: ’آسمان کی طرف رخ کریں اور پلگ لگا دیں۔‘
یہی وجہ ہے کہ یہ میدانِ جنگ میں استعمال کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔
ڈرونز کے ذریعے نگرانی کرنے والے یوکرین کے فوجی دستے میں موجود ایک سپاہی نیو نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’اس کے ذریعے رابطہ بہت تیزی سے فعال ہو جاتا ہے، آپ کو کسی خاص ساز و سامان یا تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی، آپ صرف میدان میں جاتے ہیں اور یہ کنکشن کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’اس سے ہمارا کام آسان ہو جاتا ہے کیونکہ ہم اپنی کارروائیوں کی براہِ راست نگرانی کر سکتے ہیں۔‘
انسٹیٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار (آئی ایس ڈبلیو) کے جارج باروس کے مطابق یہ نیٹ ورک ’یوکرین میں فوجی مواصلات کے لیے ریڑھ کی ہڈی‘ بن چکا ہے اور کیئو کی بحری، زمینی اور فضائی افواج میں استعمال ہو رہا ہے۔

یوکرین میں، ضرورت کے مطابق سٹارلنک (شہریوں کے لیے) اور سٹارشیلڈ (فوجیوں کے لیے) دونوں استعمال کیے جاتے ہیں۔
باروس نے بی بی سی کی بتایا کہ یہ ڈرون جیسے ہتھیاروں کے مؤثر استعمال کے لیے نہایت اہم ہے، جو نیٹ ورک سے منسلک ہو کر آپریٹرز کو حقیقی وقت میں اپنے اہداف دیکھنے کی سہولت دیتے ہیں، جس سے ’ہدف کی نشان دہی سے لے کر اسے نشانہ بنانے تک‘ کا وقت انتہائی کم ہو جاتا ہے۔
چونکہ روس کو سٹارلنک استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے جب یوکرین روس کے اندر دور تک مار کرنے والے میزائل بھیج کر آئل ریفائنریوں کو نشانہ بناتا ہے تو یہ نیٹ ورک وہاں کام نہیں کرتا۔
باروس کے مطابق یوکرین روسی حملوں، خصوصاً جیٹ انجن سے چلنے والے شاہد ڈرونز، سے اپنے دفاع کے لیے سٹارلنک نیٹ ورک پر انحصار کرتا ہے۔
شاہد ڈرون 319 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے پرواز کرتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ سٹارلنک کی عائد کردہ حد نے یوکرین کے لیے ان کا تعاقب تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔
نیو کے مطابق سٹارلنک نیٹ ورک پر کسی بھی قسم کی دانستہ پابندی ’بے وفائی‘ کے مترادف ہے۔
سٹارلنک نیٹ ورک کا کوئی فوری متبادل موجود نہیں، اس لیے رفتار میں کسی بھی قسم کی پابندی یا رابطے کا خاتمہ یوکرین کے دفاع پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ حالیہ پابندیوں نے یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ کیئو اس نیٹ ورک پر کس حد تک انحصار کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ سٹارلنک دنیا کے تقریباً ہر حصے میں رسائی فراہم کر سکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے ہر جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ممالک کو اس کے استعمال کے لیے لائسنس درکار ہوتا ہے۔
روس ان ممالک میں شامل ہے جہاں اس کے استعمال کی اجازت نہیں، تاہم کیئو ماضی میں کہہ چکا ہے کہ ماسکو پھر بھی ٹرمینلز حاصل کر کے یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں استعمال کر رہا تھا۔
سٹارلنک نے 2024 میں کہا تھا: ’اگر سپیس ایکس کو معلوم ہو جائے کہ سٹارلنک ٹرمینل کوئی ایسا فریق استعمال کر رہا ہے، جسے یہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں، تو ہم اس دعوے کی تحقیقات کرتے ہیں اور تصدیق ہونے پر ٹرمینل کو غیر فعال کر دیتے ہیں۔‘
لیکن چونکہ صرف یوکرین میں ہی لاکھوں ٹرمینلز موجود ہیں تو یہ طے کرنا تقریباً ناممکن ہو سکتا ہے کہ کون سے ٹرمینلز منظور شدہ ہیں اور کون سے نہیں۔
سٹارلنک نے ڈرونز کی رفتار کیوں محدود کی؟
اس سوال کا جواب ابھی تک واضح نہیں ہے۔
بدھ کو لندن کے دورے کے دوران زیلنسکی نے کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ یہ صرف ایک غلطی تھی، تاہم بعد میں فنانشل ٹائمز کو ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا: ’یہ کوئی تکنیکی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ ایسا ارادتاً کیا گیا۔‘
ایلون مسک نے کہا کہ سٹارشیلڈ کا انتظام امریکی حکومت کرتی ہے اور اشارہ دیا کہ اس فیصلے کے پیچھے پینٹاگون ہو سکتا ہے۔
انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’سٹارشیلڈ کا نام امریکی حکومت کی ملکیت اور اسی کے کنٹرول میں ہے۔ رفتار یا استعمال سے متعلق کوئی بھی حد امریکی فوج اور بالآخر پوٹس (پریزیڈنٹ آف دی یونائیٹڈ سٹیٹس، امریکی صدر) کی جانب سے طے کی جاتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’سٹارلنک ایک تجارتی سروس ہے جس کی ملکیت اور کنٹرول سپیس ایکس کے پاس ہے۔ سٹارلنک کا استعمال صرف شہری یا دفاعی سرگرمیوں تک محدود ہے اور اسے جارحانہ فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایسا کرنا ایک تجارتی کمپنی کے لیے مناسب نہیں ہو گا۔‘
بی بی سی نے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے رابطہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہLev Radin/ Getty Images
منگل کی رات لگائی گئی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب روس نے یوکرین پر مہلک حملے کیے جن کے نتیجے میں چھ لاکھ افراد بجلی سے محروم ہو گئے اور یوکرینی فوج کے زیرِ استعمال مواصلاتی اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی رہائشیوں نے کہا کہ ڈرون حملوں سے پہلے انھیں کسی قسم کی پیشگی وارننگ موصول نہیں ہوئی۔
زیلنسکی کے مشیر سیرہی بسکریستنوف نے بدھ کی صبح ٹیلیگرام پر لکھا: ’یہ واضح ہے کہ یہ اقدام اتفاق نہیں ہو سکتا اور موجودہ سیاسی صورتحال سے متعلق ہے۔‘
حالیہ عرصے میں امریکہ اور یوکرین کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں، خصوصاً اس وقت سے جب امریکہ نے روس کے ڈیزل کو امریکی مارکیٹ میں درآمد کرنے کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کیا۔
زیلنسکی نے اسے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے لیے ایک تحفہ قرار دیا، جبکہ جواباً ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ’اب وقت آ گیا ہے کہ یوکرین کو ایک نیا صدر ملے۔‘
اتوار کے روز ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات پر حملے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم تین دن بعد یوکرین نے کہا کہ وہ دوبارہ حملے شروع کرے گا۔ اس نے روس پر جنگ بندی کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا (کریملن کا کہنا تھا کہ اس نے کبھی جنگ بندی پر اتفاق ہی نہیں کیا تھا) اور امریکہ پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے یوکرین کو دی جانے والی اہم مدد واپس لے لی ہے۔
زیلنسکی کے الزام کے مطابق امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر یوکرین نے روسی تیل کی تنصیبات پر حملے جاری رکھے تو اسے انٹیلیجنس معلومات کی فراہمی بند کر دی جائے گی۔ ٹرمپ نے اس الزام کی تردید کی، لیکن گذشتہ ہفتے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ زیلنسکی کے لیے ’بہتر ہو گا کہ وہ یہ حملے فوراً بند کر دیں۔‘
لندن میں زیلنسکی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ انھیں امریکہ کی جانب سے دھوکا دیے جانے کا احساس ہے۔
روس کے ساتھ ٹرمپ کا معاہدہ ان کی انتظامیہ کی جانب سے آئندہ ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکہ میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے، جبکہ اس سے پہلے کئی ماہ ایران کی جنگ کے سیاسی اثرات سے نمٹنے میں گزرے۔
فروری میں شروع ہونے والے اس تنازع کے نتیجے میں قیمتیں بہت بڑھ گئی تھیں، جس سے امریکی عوام میں ان کی مقبولیت متاثر ہوئی۔




















