’ضمیر کی آواز‘: جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ کیوں دیا؟

جسٹس محسن اختر کیانی
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

صدرِ پاکستان کو ارسال کیے گئے اپنے استعفیٰ میں انھوں نے ذاتی وجوہات اور حالیہ سرجری کے بعد صحت سے متعلق مسائل کے ساتھ ساتھ ’اپنے ضمیر (کی آواز)‘ کو بھی اس فیصلے کی بنیاد قرار دیا ہے۔

صدرِ مملکت کو 28 اکتوبر 2026 کو بھجوائے گئے اپنے استعفیٰ میں جسٹس کیانی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز کی بات رہی۔

ان کے بقول اپنے عدالتی دور کے دوران انھوں نے مختلف نوعیت کے 23 ہزار سے زیادہ مقدمات نمٹائے اور ’ہمیشہ آئین کی بالا دستی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور بلا خوف و امتیاز انصاف کی فراہمی‘ کی کوشش کی۔

اپنے استعفے میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ’آئین میں کی جانے والی 26ویں اور 27ویں ترامیم کے نتیجے میں ہائی کورٹس کی خود مختاری اور دیانت داری متاثر ہوئی ہے۔‘

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق ’عدالتی اداروں پر انتظامیہ کا اثر و رسوخ بڑھا ہے، جو ججوں کی تقرریوں اور تبادلوں تک پھیل چکا ہے۔‘ ان کے مطابق اس صورتحال نے عدلیہ کی آزادی اور عدالتی عمل کی غیر جانبداری پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔

اپنے استعفیٰ میں جسٹس کیانی نے عام سائلین کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نظامِ انصاف کے اصل فریق عام سائلین ہوتے ہیں اور ’ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘ جبکہ انصاف کی فراہمی کے لیے قائم نظام کے ثمرات دیگر حلقوں کو حاصل ہو رہے ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ موجودہ حالات میں ’میرا ضمیر مجھے عدالتی منصب پر برقرار رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔‘

جسٹس محسن اختر کے مطابق ’یہ ایک تکلیف دہ فیصلہ ہے‘، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ’عدالتی عہدہ آزادی، آئین سے وفاداری اور انسانی وقار کے تحفظ سے الگ نہیں ہو سکتا۔‘

استعفیٰ میں جسٹس کیانی نے یہ بھی کہا کہ وہ اب وکالت کے شعبے میں واپس جانا چاہتے ہیں، جہاں وہ عوامی حقوق کے تحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔

لاہور ہائی کورٹ
،تصویر کا کیپشنلاہور ہائی کورٹ (فائل فوٹو)
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

واضح رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے سنہ 2032 میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہونا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے جاری کیے جانے والے ججز کے روٹے کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے دو نومبر سے ہائی کورٹ کے پنڈی بینچ میں مقدمات کی سماعت کرنا تھی۔

جسٹس محسن اختر کیانی کا نام گذشتہ چند برسوں کے دوران عدلیہ کی آزادی، ججوں کے تبادلوں اور عدالتی امور میں مبینہ مداخلت سے متعلق مقدمات میں خبروں کی زینت بنتا رہا ہے۔

مارچ 2024 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک چونکا دینے والا خط لکھا تھا، جس میں ججوں کے رشتہ داروں کے اغوا اور تشدد کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں میں خفیہ نگرانی کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے بارے میں کہا گیا تھا۔

اس خط پر دستخط کرنے والے ججوں میں جسٹس محسن اختر کیانی بھی شامل تھے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

اس کے بعد فروری 2025 میں جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان پانچ ججوں میں شامل تھے جنھوں نے دیگر ہائی کورٹس سے ججوں کے اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلے اور اس کے نتیجے میں سینیارٹی کے تنازع کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

درخواست گزار ججوں کا مؤقف تھا کہ ججوں کے تبادلوں سے عدالتی ڈھانچے اور سینیارٹی کے نظام پر اثر پڑا ہے۔

تاہم جون 2025 میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ججوں کا تبادلہ آئینی اور قانونی ہے اور اسے نئی تقرری نہیں سمجھا جا سکتا۔

اس فیصلے کے نتیجے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینیارٹی کی ترتیب بھی تبدیل ہوئی اور جسٹس محسن اختر کیانی کی پوزیشن متاثر ہوئی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے بطور جج اپنے کیریئر کا اغاز اسلام آباد ہائی کورٹ سے کیا تھا اور وہ جسٹس عامر فاروق کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئیر ترین جج تھے۔

جسٹس عامر فاروق کے سپریم کورٹ میں جانے کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی کے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے کے امکانات روشن ہوگئے تھے، تاہم اسی دوران آئینی ترمیم کے بعد ہائی کورٹ کے ججز کو ملک کے دیگر ہائی کورٹس میں تبادلے کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنادیا گیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی ان تین ججز میں شامل ہیں جن کا تبادلہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے دیگر صوبائی کورٹس میں کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2026 میں جوڈیشل کمیشن نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے دیگر ہائی کورٹس میں تبادلوں کی منظوری دی۔

اس فیصلے پر بعض قانونی حلقوں نے تنقید کرتے ہوئے اسے ان ججوں کے خلاف کارروائی قرار دیا تھا جبکہ حکومت نے اس تاثر کو مسترد کیا تھا۔

اپنے استعفیٰ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے خاص طور پر 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان ترامیم کے نتیجے میں ہائی کورٹس کی خود مختاری اور عدالتی آزادی متاثر ہوئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعیناتی کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی اس لارجر بینچ کی سربراہی کرتے تھے جو جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے مقدمات کی سماعت کرتا تھا۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں قائم بینچ نے فوج کے خفیہ اداروں کے متعدد افسران کو طلب کرنے کے لیے احکامات بھی جاری کیے تھے۔