
سپین کی امدادی ٹیم نےدو سالہ ہوسٹن کلوڈ کو ملبے سے نکال اس کی ماں کے حوالے کر دیا












انفراسٹرکچر کی تباہی اور رکاوٹوں کی وجہ سے امریکہ نےہیٹی میں ہیلی کاپٹروں کےذریعےخوراک زلزلہ متاثرین تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہیٹی میں انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی کے وجہ سے عالمی امداد زلزلہ متاثرین تک نہیں پہنچ پا رہی ہے۔ امدادی اشیا سے لدے ہوئے جہاز ہیٹی نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔امدادی کارکنوں کے مطابق جو سامان ہیٹی پہنچ چکا ہے وہ بھی انفرسٹرکیچر کی تباہی کی وجہ سے متاثرین تک نہیں پہنچ پا رہا ہے۔
زلزلہ متاثرین کے لیے عالمی امداد ہیٹی پہنچ تو رہی ہے لیکن ابھی تک اس کے ملک کے تباہ حال دارالحکومت پورٹ او پرنس کے ہوائی اڈے سے باہر پہنچنے کے آثار نہیں ہیں۔
امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو بچانے کے لیے وقت تیزی سے ہاتھ نکل رہا ہے۔دنیا بھر سے امدادی کارکن ہیٹی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ سب سے پہلے پہنچنے والوں میں ہسپانوی، امریکی، چینی اور فرانسیسی کارکن شامل ہیں۔
کلِک لوگ لاشوں کے ساتھ سونے پر مجبور
نامہ نگاروں کے مطابق فی الحال متاثرہ علاقے میں مربوط امدادی کارروائیاں ہوتی نظر نہیں آ رہیں اور اس وجہ سے متاثرین کے اشتعال میں اضافہ ہو رہا ہے ۔بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق مناسب طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ ہڈی ٹوٹنے جیسے قابل علاج مسائل سے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔
امدادی اشیاء کی ترسیل میں مدد کے لیے امریکہ کا ایک طیارہ بردار بحری جہاز ہیٹی کے قریب پہنچنے والا ہے جبکہ امدادی سامان سے لدے طیارے پورٹ او پرنس ہوائی اڈے پر موجود ہیں۔
پورٹ او پرنس میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو گیلاچر کا کہنا ہے کہ زلزلے میں مرنے سے بچ جانے والے زخمی افراد کی بڑی تعداد اب ہلاک ہو چکی ہے اور متاثرہ علاقے میں صاف پانی، خوراک، اور طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ پورٹ او پرنس کی سڑکوں پر لاشیں بکھری ہوئی ہیں اور انہیں ہٹانے کے لیے بلڈوزر استعمال کیے جا رہے ہیں۔
زلزلہ متاثرین کا کہنا ہے کہ تیسرے دن بھی امدادی ٹیمیں ان تک نہیں پہنچ پائی ہیں۔ ایک متاثرہ شخص ژان ولفرائیڈ کے مطابق ’ ہم ریڈیو پر سنتے ہیں کہ باہر سے امدادی ٹیمیں آ رہی ہیں لیکن کچھ بھی نہیں آیا‘۔
ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ترجمان ڈیوڈ وم ہرسٹ کے مطابق ’بدقسمتی سے یہ لوگ آہستہ آہستہ مشتعل اور بے صبرے ہوئے جا رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تناؤ بڑھتا جا رہا ہے کیوکہ غریب ترین طبقے کے متاثرین امداد کے منتظر ہیں‘۔
نامہ نگاروں کے مطابق اس وقت ہیٹی میں حکومت کا وجود بمشکل ہی دکھائی دیتا ہے اور لوٹ مار کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔ ہیٹی کے ہمسایہ ملک جمہوریہ ڈومینک کے امدادی دستے کے قائد ڈیلفن رادریگز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ عدم تحفظ کا احساس ہے۔ گزشتہ روز انہوں نے ہمارے کچھ ٹرک اغواء کرنے کی کوشش کی۔ ہم کچھ علاقوں میں ایسی صورتحال کی وجہ سے بمشکل کام کر پا رہے ہیں‘۔.
ٹائم میگزین کے فوٹوگرافر شوال شوارز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے پورٹ او پرنس کے جنوب میں زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں جمع کر کے بنائی گئی رکاوٹیں دیکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں یہ امداد کے منتظر افراد کی جانب سے غصے کا اظہار تھا‘۔
اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق ہیٹی میں زلزلے اور اس کے بعد مدد نہ ملنے سے ہلاک ہونے افراد کی تعداد پینتالیس سے پچاس ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ اس زلزلے سے کل پینتیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک ہیٹی کے متاثرین کی امداد کے لیے دو سو ستّر ملین ڈالر کی عالمی امداد کے وعدے کیے گئے ہیں۔عالمی پروگرام برائے خوراک نے پندرہ ہزار ٹن اشیائے خوردونوش کی فراہمی پر کام شروع کیا ہے جبکہ ریڈ کراس نے دس ملین ڈالر کی امدادی اپیل کی ہے۔
امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ہزاروں فوجی اور میرین متاثرہ ملک کو روانہ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دس کروڑ ڈالر کے فوری امدادی فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔اس میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹی کے لوگوں کو اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ادھر فرانس کی حکومت نے کہا ہے کہ ان کا ہیٹی کے لیے بین الاقوامی امدادمی کانفرنس منعقد کرنے پر امریکہ، کینیڈا اور برازیل سے اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ فرانس اور امریکہ کے صدور کے درمیان ہیٹی کی صورتحال پر ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی تھی۔