انگور اڈہ میں پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپ، ایک شہری ہلاک, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

،تصویر کا ذریعہEPA
جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں پاکستان اور افغانستان کی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور تین افراد زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ سرحدی آبادی میں مکانات اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق 27 اکتوبر کی شب افغان طالبان نے انگور اڈہ بازار اور سرحدی علاقے میں واقع شہری گھروں پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی۔
بیان کے مطابق ایک طالبان مارٹر گولہ ایک گھر پر گرنے سے ایک نہتے شہری کی موت واقع ہوئی جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ گولہ باری سے بازار کی متعدد دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ سرحد پر تعینات پاکستانی فورسز نے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے اس اقدام کا مؤثر اور بھرپور جواب دیا ہے۔
جنوبی وزیرستان لوئر میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ افغان جانب سے مبینہ طور پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس کے دوران شہری علاقوں میں بھی گولے گرے۔ ان کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان فورسز کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
انگور اڈہ کے ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ منگل کی دوپہر اچانک شدید گولہ باری شروع ہوئی۔ ان کے بقول ایک گولہ ایک رہائشی مکان پر آ گرا جس کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین افراد زخمی ہوئے۔
انگور اڈہ کے قومی جرگے کے رکن مولانا تسبیح اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد پر کشیدگی تو پہلے سے موجود تھی، تاہم گذشتہ روز اچانک فائرنگ اور گولہ باری شروع ہو گئی۔ ان کے مطابق کئی گولے شہری آبادی میں گرے اور ایک مکان کو براہِ راست نشانہ بننے سے جانی نقصان ہوا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ایک گولہ لکڑیوں کے ایک ٹال پر بھی گرا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ آگ نے قریبی دکانوں تک پھیل کر مالی نقصان پہنچایا۔
دوسری جانب سکیورٹی ذرائع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی سرحدی چوکیوں سے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر سنائپر رائفلوں سمیت چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ بیان کے مطابق پاکستانی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت سے رابطہ کرنے پر انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر وزارتِ دفاع کے ترجمان ہی باضابطہ مؤقف دے سکتے ہیں۔
اُدھر مقامی ذرائع کے مطابق بُدھ کی صبح دونوں جانب صورتحال نسبتاً پُرسکون رہی۔ مولانا تسبیح اللہ کا کہنا ہے کہ مقامی جرگے نے دونوں ممالک کی فورسز سے فائرنگ روکنے کی اپیل کی تھی تاکہ زخمیوں کو محفوظ طریقے سے ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق فی الحال علاقے میں فائرنگ کی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی گزشتہ دو برس سے وقفے وقفے سے جاری ہے۔ اکتوبر 2025 میں سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مختلف سرحدی مقامات پر جھڑپوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔











