اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کو محرم الحرام کے دوران حساس قرار دیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان دنوں تخریب کاری کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
سچل رینجرز کے بریگیڈئر وسیم احمد نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ماتمی جلوسوں میں خودکش بم حملوں، بم دھماکوں، ہینڈ گرنیڈ اور کیمیکل سے حملوں کا خدشہ ہے، اس کے علاوہ کچھ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ علماء کی ٹارگٹ کلنگز بھی ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی سمیت صوبہ بھر میں سات ہزار رینجرز تعینات کیے گئے ہیں جو ماتمی جلوسوں کی نگرانی کریں گے اور حفاظتی انتظامات کا یہ سلسلہ چہلم تک جاری رہے گا۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بریگیڈئر وسیم احمد نے بتایا کہ شہر میں سڑسٹھ امام بارگاہوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، مرکزی مجالس اور ماتمی جلوسوں کے شرکا کے لیے واک تھرو گیٹس لگائے گئے ہیں جبکہ خواتین کی تلاش کے لیے لیڈیز پولیس اور رضاکار خواتین موجود ہوں گی۔ ان کے مطابق یہ انتظامات پولیس کی مشاورت سے کیے جارہے ہیں۔
دوسری جانب شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ کو بدھ سے تین روز کے لیے عام لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا جائے گا جس کے باعث تجارتی علاقوں صدر، الیکٹرانک مارکیٹ، لائیٹ ہاؤس، بولٹن مارکیٹ، پلاسٹک مارکیٹ ، جوڑیا مارکیٹ اور آس پاس کی مارکیٹوں میں کاروبار معطل رہے گا۔
یاد رہے کہ نمائش چورنگی سے لیکر کھارادر تک ایم اے جناح روڈ ماتمی جلوسوں کی گزرگاہ ہے۔گزشتہ سال دس محرم کو لائٹ ہاؤس کے قریب مرکزی ماتمی جلوس میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں کم از کم بیالیس افراد ہلاک ہوئے تھے اور مشتعل افراد نے لائٹ ہاؤس، بولٹن مارکیٹ اور پلاسٹک مارکیٹ کی کئی سو دکانیں نذر آتش کر دیں تھیں۔
گزشتہ دنوں ایم اے جناح روڈ اور خاص طور پر لائیٹ ہاؤس کے دکانداروں میں تاجر تنظیموں نے پمفلٹ تقسیم کیے ہیں جس میں انہیں محرم کے عشرے میں محتاط رہنے اور اپنی دکانوں کا خود خیال رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ان اقدامات نے دکانداروں کے خدشات اور بھی بڑھا دیے ہیں۔
خدشات تو بہت ہیں سوچ رہے ہیں کہ مال اٹھا کر لے جائیں اپنے اپنے گھروں میں رکھیں۔ ڈر تو بہت ہے کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ انتظامات تو بہت ہیں مگر دودھ کا جلا پانی بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے، مال چاہے دس لاکھ کا ہو یا تین لاکھ کا بعد میں کون دیتا ہے۔
ایس ایم ذکی، دکاندار
ایس ایم ذکی نامی دکاندار کا کہنا ہے کہ ’خدشات تو بہت ہیں سوچ رہے ہیں کہ مال اٹھا کر لے جائیں اپنے اپنے گھروں میں رکھیں۔ ڈر تو بہت ہے کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ انتظامات تو بہت ہیں مگر دودھ کا جلا پانی بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے، مال چاہے دس لاکھ کا ہو یا تین لاکھ کا بعد میں کون دیتا ہے‘۔
پیپر مارکیٹ کے دکاندار بھی اپنا کاروبار دوبارہ جمانے کی جستجو میں ہیں، یہ دکانیں آگ لگنے کے بعد کھنڈر بن گئی تھیں ۔ ایک دکاندر محمد رحیم نے بتایا کہ انہوں نے دکان کی مرمت پر اٹھہتر ہزار روپے خرچ کیے ہیں مگر دو سو دکانوں پر مشتمل اس مارکیٹ کی بجلی ابھی تک بحال نہیں ہو سکی ہے۔
بولٹن مارکیٹ میں نذر آتش ہونے کے بعد منہدم عمارتوں کی تعمیر جاری ہے، کچھ دکانوں کی شٹرنگ ہوچکی ہے جبکہ کچھ کا سٹریکچر تیار کر دیا گیا ہے۔ مکمل بحالی تک متاثر دکاندار ٹھیلیوں اور پتھاروں پر کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ کچھ تاجروں نے دیگر عمارتوں میں دکانیں لگائی رکھی ہیں۔
پہلے تو تاجروں میں دکانوں کے سائز اور نقشوں پر اتفاق نہیں ہو رہا ہے، اب ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ اس کے پاس جو رقم تھی وہ پوری ہوچکی ہے اب مزید فنڈس جاری ہوں گے تو کام آگے بڑھے گا۔
رفیق جدون
حکومت نے متاثرین کے لیے ساڑھے تین ارب روپے معاوضے کا اعلان کیا تھا جن میں سے ڈیڑھ ارب رپے متاثرین میں تقسیم کر دیے گئے ہیں مگر کچھ دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں پورا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ مارکیٹوں کی انجمنوں کے ذریعے تاجروں میں معاوضے کی رقم تقسیم کی گئی تھی اور لائٹ ہاؤس انجمن فلاح تاجران کے صدر حاجی جمعہ خان کا کہنا ہے کہ تمام متاثرین کو مناسب معاوضہ ملا ہے انہیں حکومت سے اس بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔
الائنس آف مارکیٹ ایسو سی ایشن کے صدر رفیق جدون کا کہنا ہے کہ پہلے تو تاجروں میں دکانوں کے سائز اور نقشوں پر اتفاق نہیں ہو رہا ہے، اب ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ اس کے پاس جو رقم تھی وہ پوری ہوچکی ہے اب مزید فنڈس جاری ہوں گے تو کام آگے بڑھے گا۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی سیکریٹری خزانہ، کراچی چیمبر کے ایک نمائندے اور صوبائی وزیر داخلہ کے جب تک چیک پر دستخط نہ ہوں فنڈز جاری نہیں ہوتے ان معاملات کی وجہ سے مارکیٹوں کی تعمیر میں تاخیر ہو رہی ہے۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔