’نہ گنبد نہ مینار، یہ ہے ہندوستان کی قدیم ترین مسجد‘

یہ مسجد اپنے سیکیولر نظریے کے لیے مشہور راجہ چیرامن پیرومل کے نام سے منسوب ہے
،تصویر کا کیپشنیہ مسجد اپنے سیکیولر نظریے کے لیے مشہور راجہ چیرامن پیرومل کے نام سے منسوب ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی پہلی مسجد پیغمبر اسلام کی زندگی کے دوران ہی کیرالہ کے کوڈنگلور علاقے میں قائم کی گئی تھی۔ یہ مسجد کئی مرتبہ تعمیر کے عمل سے گزر چکی ہے لیکن اب اس کی پرانی شکل بحال کرنے کی تیاری ہے۔

یہ مسجد اپنے سیکیولر نظریے کے لیے مشہور راجہ چیرامن پیرومل کے نام سے منسوب ہے۔ مقامی روایات کے مطابق راجہ نے اسلام قبول کر لیا تھا اور انھی کے حکم پر یہ مسجد تعمیر کی گئی تھی۔

مسجد کی منتظم کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد سعید کے مطابق موجودہ عمارت کا اندرونی حصہ پندرہویں صدی کا ہے۔ پہلے اس جگہ بودھ مت کی عبادت گاہ تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ مسجد ہماری قومی وراثت ہے اور ہمیں اس کا تحفظ کرنا چاہیے۔‘

اس علاقے میں اور بھی کئی قدیم مساجد ہیں، جو مقامی فن تعمیر کے مخصوص انداز کی عکاسی کرتی ہیں، نہ کوئی گنبد نہ مینار۔

مالابار سے عربوں کا تجارتی رشتہ پیغمبر اسلام کی آمد سے بھی پرانا ہے۔ عرب تاجر سب سے پہلے سمندر کے راستے مالابار ہی پہنچے تھے جو ہزاروں سال سے مسالوں کی تجارت کا اہم مرکز تھا۔ اس علاقے کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے یہاں کے قدیم موزیری بندرگاہ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔

مسجد کے احاطے میں ہی قائم عجائب گھر سے وابستہ وی ایم صراف کہتے ہیں کہ ’مسجد کے ان حصوں کو منہدم کر دیا جائے گا جو بعد میں بنائے گئے تھے لیکن اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ پرانی عمارت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘

ڈاکٹر سعید کے مطابق پروجیکٹ رپورٹ کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

چیرامن پیرومل مسجد اپنے سیکیولر نظریے کے لیے مشہور ہے۔ ڈاکٹر سعید کہتے ہیں کہ ’یہاں سب کا استقبال ہے۔ یہاں کچھ غیر مسلم بچے امام مسجد کے ساتھ علم کی دنیا میں پہلا قدم رکھنے آتے ہیں۔ اس تقریب کو ودیا رمبھم کہتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے بزرگوں کا آشیرواد ان کے بچوں کے ساتھ رہے گا ۔۔۔ ہم ان سب کا استقبال کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔‘

’یہ پیغمبر اسلام کی روایت ہے کہ آپ تمام مذاہب اور مکاتب فکر کی قدر کرتے ہوں، سب کو ساتھ لے کر چلتے ہوں اور بہت روادار ہوں، یہ ہی وہ روایات ہیں جن پر ہمیں عمل کرنا چاہیے، اور ہم کر رہے ہیں۔‘