یوسین بولٹ کا ایک گولڈ میڈل چھن سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP
سنہ 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں حصہ لینے والے جمیکا کے اولمپک ریلے گولڈ میڈلسٹ نیسٹا کارٹر کے پیشاب کا دوسرا نمونہ بھی مثبت آ گیا ہے۔
اس بات کا انکشاف اس کیس سے واقف دو ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز نے بدھ کو کیا۔
٭ <link type="page"><caption> یوسین بولٹ کا تیسرا طلائی تمغہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2009/08/090822_bolt_3rd_gold_zs" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> ریلے ریس میں جمیکا کا نیا عالمی ریکارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2012/08/120811_olympics_jamica_relay_wr_zs" platform="highweb"/></link>
جمیکا اولمپکس ایسوسی ایشن (جے او اے) نےگذشتہ جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کی جانب سے ایک نوٹیفیکیشن موصول ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ کے ایک کھلاڑی کے ٹیسٹ کا نتیجہ بدترین آیا ہے تاہم انھوں نے اس کھلاڑی کا نام نہیں بتایا تھا۔
نیسٹا کارٹر یا ان کے ایجنٹ نے ٹیسٹ کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
خیال رہے کہ کارٹر کا 4x100 میٹر ریلے ریس کے اولمپکس اور ورلڈ چیمپئین شب مقابلوں میں جمیکا کو سونے کے تمغے جتوانے میں اہم کردار رہا ہے۔
نیسٹا کارٹر نے جمیکا کی ریلے ٹیم کو سنہ 2008 اور 2012 کے اولمپکس مقابلوں اور سنہ 2011، 2013 اور 2015 کے ورلڈ چیمپئین شب مقابلوں میں اپنی ٹیم کو سونے کے تمغے جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس کیس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ریلے ریس میں نیسٹا کارٹر کے ساتھی یوسین بولٹ، آسفا پاول اور مائیکل فریٹر تھے، جن پر ڈوپنگ کے الزامات نہیں ہیں، لیکن اس بات کا امکان ہے کہ آئی او سی ان سے بھی سونے کے تمغے واپس لے لے۔
آئی او سی کے ترجمان مارک ایڈمز کا کہنا ہے کہ اس بات پر مذاکرات جاری ہیں کہ مثبت ٹیسٹ آنے والوں نے جو تمغے جیتے ہیں ان کا کیا کیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ہدف ایسے ایتھلیٹوں کو نشانہ بنانا ہے جس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں اور ہماری کوشش ہو گی کہ انھیں ریو اولمپکس میں شرکت سے روکا جا سکے۔
مارک ایڈمز کے مطابق اگر بولٹ، پاول اور فریٹر سے ان کے تمغے واپس لے لیے گئے تو وہ کھیلوں کی ثالثی عدالت میں اپیل کر سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کارٹر نے میتھل ہیگسانامین نامی دوا استعمال کی تھی جو 2004 سے عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی ممنوع ادویات کی فہرست میں شامل ہے۔
جب جے او اے کے صدر مائیک فینل سے اس حوالے سے بات کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔















