آخری وقت اشاعت:  ہفتہ, 16 جنوری, 2010, 00:52 GMT 05:52 PST

دس ہزار امریکی فوجی تباہ حال ہیٹی جائیں گے

زخمیوں کا علاج اور امدادی کارروائیاں

امریکی محکمہ دفاع کے حکام نے کہا ہے کہ پیر تک دس ہزار امریکی فوجی زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے ہیٹی پہنچ جائیں گے۔ زلزلے میں پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ہیٹی کے وزیر اعظم یان میکس بیلیریو کے حوالے سے بتایا ہے کہ پندرہ ہزار سے زیادہ لوگوں کی لاشیں دفنائی جا چکی ہیں۔

دریں اثناء اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ تیس لاکھ لوگوں کو اگلے چھ ماہ تک امداد کی ضرورت ہو گی اور اس نے پانچ سو باسٹھ ملین ڈالر کی رقم کی اپیل کی ہے۔

انفراسٹرکچر کی تباہی اور رکاوٹوں کی وجہ سے امریکہ نےہیٹی میں ہیلی کاپٹروں کےذریعےخوراک زلزلہ متاثرین تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہیٹی میں انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی کے وجہ سے عالمی امداد زلزلہ متاثرین تک نہیں پہنچ پا رہی ہے۔امدادی کارکنوں کے مطابق جو سامان ہیٹی پہنچ چکا ہے وہ بھی کی تباہی کی وجہ سے متاثرین تک نہیں پہنچ رہا۔

کلِک ہیٹی میں آفات کی تاریخ

کلِک لوگ لاشوں کے ساتھ سونے پر مجبور

اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ہنگامی انسانی امداد کے لیے رابطہ کار جون ہولمز نے کہا کہ ادارہ ہیٹی کے لیے ایک نئی امدادی اپیل جاری کررہا ہے۔

جون ہولمز کہہ رہے ہیں کہ ہنگامی امداد کی یہ اپیل چھپن کروڑ ڈالر کی ہوگی اور جیسا کہ ایسے حالات میں ہوتا ہے، اس میں سے تقریباً آدھی امدادخوراک کی ہنگامی مدد کے لیے مختص ہوگی۔ باقی رقم صحت، پانی کی فراہمی اور صفائی، غذائی ضروریات، رہائش، بحالی اور اور زراعت وغیرہ پر خرچ کی جائے گی۔ اس زلزلے سے تقریباً تیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور ہم ان کم سے کم چھ ماہ تک ان کی دیکھ بھال اور مدد کی کوشش کرتے رہیں گے۔

متاثرین

’غریب ترین طبقے کے متاثرین امداد کے منتظر ہیں‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے ہیٹی میں ہونے والی تباہی کو غیر معمولی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ زلزلے سے ہونے والی تباہی انتہائی تکلیف دہ ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ جانیں بچانے اور زلزلے میں بچ جانے والوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔

پورٹ او پرنس میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو گیلاچر کا کہنا ہے کہ زلزلے میں مرنے سے بچ جانے والے زخمی افراد کی بڑی تعداد اب ہلاک ہو چکی ہے اور متاثرہ علاقے میں صاف پانی، خوراک، اور طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ پورٹ او پرنس کی سڑکوں پر لاشیں بکھری ہوئی ہیں اور انہیں ہٹانے کے لیے بلڈوزر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

زلزلہ متاثرین کا کہنا ہے کہ تیسرے دن بھی امدادی ٹیمیں ان تک نہیں پہنچ پائی ہیں۔ ایک متاثرہ شخص ژان ولفرائیڈ کے مطابق ’ ہم ریڈیو پر سنتے ہیں کہ باہر سے امدادی ٹیمیں آ رہی ہیں لیکن کچھ بھی نہیں آیا‘۔

ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ترجمان ڈیوڈ وم ہرسٹ کے مطابق ’بدقسمتی سے یہ لوگ آہستہ آہستہ مشتعل اور بے صبر ہوئے جا رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تناؤ بڑھتا جا رہا ہے کیوکہ غریب ترین طبقے کے متاثرین امداد کے منتظر ہیں‘۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

نامہ نگاروں کے مطابق اس وقت ہیٹی میں حکومت کا وجود بمشکل ہی دکھائی دیتا ہے اور لوٹ مار کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔ ہیٹی کے ہمسایہ ملک جمہوریہ ڈومینک کے امدادی دستے کے قائد ڈیلفن رادریگز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ عدم تحفظ کا احساس ہے۔ گزشتہ روز انہوں نے ہمارے کچھ ٹرک اغواء کرنے کی کوشش کی۔ ہم کچھ علاقوں میں ایسی صورتحال کی وجہ سے بمشکل کام کر پا رہے ہیں۔‘

ٹائم میگزین کے فوٹوگرافر شوال شوارز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے پورٹ او پرنس کے جنوب میں زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں جمع کر کے بنائی گئی رکاوٹیں دیکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں یہ امداد کے منتظر افراد کی جانب سے غصے کا اظہار تھا‘۔

متاثرہ علاقے میں صاف پانی، خوراک، اور طبی امداد کی اشد ضرورت ہے

اقوامِ متحدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک ہیٹی کے متاثرین کی امداد کے لیے دو سو ستّر ملین ڈالر کی عالمی امداد کے وعدے کیے گئے ہیں۔عالمی پروگرام برائے خوراک نے پندرہ ہزار ٹن اشیائے خوردونوش کی فراہمی پر کام شروع کیا ہے جبکہ ریڈ کراس نے دس ملین ڈالر کی امدادی اپیل کی ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے دس کروڑ ڈالر کے فوری امدادی فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا تھا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ کیا جائے گا۔ ادھر فرانس کی حکومت نے کہا ہے کہ ان کا ہیٹی کے لیے بین الاقوامی امدادمی کانفرنس منعقد کرنے پر امریکہ، کینیڈا اور برازیل سے اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ فرانس اور امریکہ کے صدور کے درمیان ہیٹی کی صورتحال پر ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی تھی۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔