اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
یورپ میں شدید برفباری اور سرد موسم کی وجہ سے سینکڑوں منسوخ پروازیں اور ٹرینیں بحال نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کی مشکلات میں شدید اضافہ ہوگیا ہے۔ لندن کے ہتھرو ایر پورٹ پر ساڑھے تین لاکھ مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔ مسافر نہ یہاں سے جا سکتے ہیں اور نہ تمام پروازیں یہاں اتاری جارہی ہیں۔
ہتھرو ایر پورٹ پر تیزی سے برف ہٹانے کے علاوہ پروازوں کے لیے رات کےکرفیو میں بھی نرمی کردی گئی ہے تاکہ کئی دنوں سے ہزاروں پھنسے ہوئے مسافروں کو بھیجا جاسکے۔
تاہم برٹش ایر ویز کے حکام نے مسافروں سے کہا ہے کہ کرسمس تک تمام مسافروں کو اُن کی منزلوں تک پہنچانا شائد ممکن نہیں ہوسکے گا۔
ادھر بر سلز میں برف صاف کرنے والا کیمکل مواد ختم ہوجانے کے باعث متعدد پروازیں منسوخ کردی گئیں جن سے مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
لندن اور یورپ کے درمیان چلنے والی یورو ٹرین کے لیے مسافروں کی طویل قطاریں نظر آرہی ہیں۔ یور حکام نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ شدید ضرورتمند مسافروں کی جگہ بنانے کے لیے اگر ہوسکے تو وہ اپنے سفر کے پروگرام میں تبدیلی کرلیں۔
برفباری سے زیادہ متاثر ہونے والے یورپی ممالک میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں اور ان ممالک میں سارے ہفتے درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے رہنے کی پیشنگوئی کی گئی ہے۔
برطانیہ میں اب سیاسی سطح ہر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کہ موسم کے اس پر شدت بدلتے انداز سے نمٹنے کے لیے ایسی کیا حکمت عملی بنائی جائے جس سے زندگیاں اس حد تک متاثر نہ ہوں جس کا اس وقت سامنا ہے۔
یورپ میں جاری برفباری کے باعث چار سو سے زائد پاکستانی مسافر بھی پیرس اور کولون میں پھنس گئے ہیں جبکہ پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن نے عارضی طور پر اپنا آپریشن شروع کردیا ہے اور پیر کو دو پروازیں لندن کے لیے روانہ ہوئی ہیں۔
برطانیہ میں سڑک کے ذریعے آمد و رفت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے
پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ برفباری سے پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کا آپریشن بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق دو پروازیں اس وقت پیرس اور کولون میں رکی ہوئی ہیں، یہ پروازیں اسلام آباد اور لاہور سے لندن کے لیے روانہ ہوئی تھیں، جن کا رخ خراب موسم کے باعث موڑ دیا گیا۔
جرمن حکام ان لوگوں کو اترنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے جن کے پاس ویزہ نہیں تھا، مگر بعد میں پی آئی اے حکام نے ان سے بات کی اور انہیں ہوٹلوں میں منتقل کیا۔
مشہود تاجور
جرمنی کے شہر کولون میں پھنسے ہوئے پاکستانی مسافروں کو اس وقت مزید دشواری کا سامنا کرنا پڑا جب مقامی حکام نے انہیں جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں دی۔
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق کولون میں پی آئی اے کا عملہ موجود نہیں ہے، ان کا دفتر فرینکفرٹ میں ہے جہاں سے کولون کا زمینی فاصلہ تین چار گھنٹے ہے۔ ترجمان کے مطابق برفباری کے باعث وہاں پہنچنا ممکن نہیں تھا مگر اس کے باوجود ان کے لوگ وہاں پہنچے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’جرمن حکام ان لوگوں کو اترنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے جن کے پاس ویزہ نہیں تھا، مگر بعد میں پی آئی اے حکام نے ان سے بات کی اور انہیں ہوٹلوں میں منتقل کیا‘۔
پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کی کرسمس کی چھٹیاں متاثر ہو رہی ہیں اور ہزاروں افراد نے رات ہیتھرو ائرپورٹ کے مختلف ٹرمینلز اور برسلز کے زوینٹم ائرپورٹ پرگزاری ہے۔برفباری کے باعث پاکستان سے یورپ روانہ ہونے والی مزید پروازیں بھی تاخیر کا شکار ہوئی ہیں اور پیر کو اسلام آباد اور لاہور سے دو پروازیں چوبیس گھنٹے کی تاخیر کے بعد لندن کے لیے روانہ ہوگئی ہیں۔ پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق انہوں نے عارضی طور پر آپریشن بحال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک موسم صاف نہیں ہوتا اور سول ایوی ایشن کلیئرنس نہیں دیتی مکمل آپریشن بحال نہیں ہوسکے گا۔
دوسری جانب نجی فضائی کمپنی ایئر بلیو کی مانچسٹر جانے والی پرواز بھی برمنگھم کی جانب موڑ دی گئی ہے، اس پرواز میں ایک سو چالیس کے قریب مسافر سوار تھے۔ ایئر بلیو حکام کا کہنا ہے کہ ان کی ہفتے میں تین پروازیں مانچسٹر جاتی ہیں اور جب تک برمنگھم میں رکی ہوئی پرواز واپس نہیں آجاتی تب تک مزید آپریشن رکا رہے گا۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔