شاہی شادی یا پریوں کی کہانی

وقت اشاعت

سویڈن کے شہزادے کارل فلپ نے ریئلٹی شو کی سٹار صوفیہ ہیلک وسٹ سے سنیچر کو ایک تقریب میں شادی کر لی ہے۔

صوفیہ سویڈن کی صدیوں پرانی تاریخ میں پہلی ’عام خاتون‘ ہیں جو سویڈن کے شہزادے سے شادی کے بعد شہزادی بنی ہیں۔

سویڈن میں ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ شاہی خاندان اپنی مقبولیت کھوتا جا رہا ہے تاہم شادی کی تقریب کے لیے ہزاروں افراد سٹاک ہوم کی ‎سڑکوں پر جمع ہوئے۔

شاہی امور کے ماہر راجرگرین نے کہا کہ ’یہ ایک حقیقی سینڈریلا والی کہانی ہے۔‘

لیکن پریوں کی کہانی کی طرح شاہی محبت کی کہانی بھی بہت آسان نہیں رہی ہے۔

پرنس سے قربتوں کے بعد صوفیہ نے اپنی شبیہ میں بہت تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے
،تصویر کا کیپشنپرنس سے قربتوں کے بعد صوفیہ نے اپنی شبیہ میں بہت تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے

خیال رہے کہ 30 سالہ صوفیہ ٹاپ لیس ماڈل کے طور پر کام کرتی رہی تھیں تاہم بعد میں وہ یوگا کی استاد بن گئیں اور فلاح و بہبود کے کام میں مصروف رہنے لگیں۔

ان کے منگیتر 36 سالہ کارل فلپ سویڈن کے تخت کے لیے تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔

یہ دونوں سویڈن کی عوام میں بے حد مقبول ہیں
،تصویر کا کیپشنیہ دونوں سویڈن کی عوام میں بے حد مقبول ہیں

اطلاعات کے مطابق دونوں کی پہلی ملاقات ایک ریستوران میں سنہ 2010 میں ہوئی اور اس کے فوراً بعد ان کی قربتوں کی خبریں منظر عام پر آئیں۔

سویڈن کی میڈیا نے ماڈل ہیلک وسٹ کے ماضی پر بہت شور مچایا جن میں مردوں کی میگزن ’سلٹز‘ کے لیے اژدہے کے ساتھ نیم برہنہ تصویر اور سہ 2005 میں پیراڈائز ہوٹل ریئلٹی شو میں شرکت شامل ہے۔

شاہی امور کے ماہر راجر لنڈگرین نے کہا کہ ’یہ ایک حقیقی سینڈریلا والی کہانی ہے‘
،تصویر کا کیپشنشاہی امور کے ماہر راجر لنڈگرین نے کہا کہ ’یہ ایک حقیقی سینڈریلا والی کہانی ہے‘

اس شو کے شرکا بہت کم کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں۔

اس کے جواب میں ہیلک وسٹ نے سویڈش ٹی وی کو بتایا کہ وہ ان چیزوں سے بہت آگے نکل آئی ہیں۔

ان کی شادی کے موقعے پر تقریبا پانچ لاکھ افراد کے شہروں میں نکلنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے
،تصویر کا کیپشنان کی شادی کے موقعے پر تقریبا پانچ لاکھ افراد کے شہروں میں نکلنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے

انھوں نے کہا ’مجھے کسی چیز پر افسوس نہیں ہے۔ ان تمام تجربات کی وجہ سے ہی آج میری یہ شخصیت ہے۔ آج میں اس قسم کا فیصلہ نہیں کرتی۔‘

کہا جاتا ہے کہ ان کے ماضی کے متعلق شاہی خاندان میں پریشانی ہے تاہم محل کی جانب سے ان کے چیریٹی یعنی فلاحی کاموں پر زور دیا گیا ہے۔

ان کے فلاحی کاموں میں جنوبی افریقہ کے ناموافق حالات سے متاثرہ بچوں کے لیے امداد شامل ہے۔