اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک نے کہا ہے کہ وکلاء کی جانب سے عدلیہ کی بحالی کے لیے چلائی جانے والی مہم کا ہی نتیجہ ہے کہ آج پاکستانی عدلیہ نسبتاً آزاد ہے۔
انہوں نے یہ بات نو مارچ دو ہزار سات کو اس وقت کے صدر جنرل مشرف کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کو غیر فعال کیے جانے کے خلاف چلائی گئی وکلاء کی تحریک کے چار سال کی تکمیل پر بی بی سی اردو کے محمد حنیف سے خصوصی گفتگو میں کہی۔
منیر اے ملک اس تحریک کے سربراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ چار سال پہلے وکلاء کی تحریک ایک محدود مقصد یعنی چیف جسٹس کی بحالی کے لیے شروع کی گئی تھی مگر جب وہ بیس جولائی کو بحال ہوئے اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں اہم آئینی مقدمات کی سماعت شروع کی تو اس وقت یہ ثابت ہوگیا تھا کہ اگر عدالتیں آزاد ہونا بھی چاہیں گی تو اسے اسٹیبلشمنٹ دبا کر رکھے گی۔ اسی لیے عدلیہ کی آزادی کا سب سے اہم مرحلہ تین نومبر کو ایمرجنسی کے بعد شروع ہوا۔
اتنی لمبی تحریک کے دوران لوگوں کی توقعات بہت بڑھ گئی تھیں اور اسی لیے ان توقعات کو پورا کرنے میں عدالتیں اور وکلاء ناکام رہے ہیں مگر عام آدمی کے حقوق کا تحفظ پہلے سے بہت بہتر ہوا ہے۔
منیر اے ملک
انہوں نے کہا کہ اس تحریک کے کئی مرحلے تھے۔ پہلا مرحلہ آمریت کے خلاف تھا اور دوسرا مرحلہ تین نومبر کی ایمرجنسی کے بعد عدالتوں کی آزادی کا تھا، تو اس نظر سے اگر دیکھا جائے تو آج عدالتیں نسبتاً زیادہ آزاد ہیں۔
منیر ملک نے تسلیم کیا کہ ’اتنی لمبی تحریک کے دوران لوگوں کی توقعات بہت بڑھ گئی تھیں اور اسی لیے ان توقعات کو پورا کرنے میں عدالتیں اور وکلاء ناکام رہے ہیں مگر عام آدمی کے حقوق کا تحفظ پہلے سے بہت بہتر ہوا ہے۔ کم از لوگوں کے لیے ایک امید بنی ہے۔ تاہم ضلعی سطح کی عدالتوں میں تبدیلی بہت معمولی ہے، کیونکہ عدالت کا نظام تو وہی پرانا ہے‘۔
اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
اس تاثر کے بارے میں کہ سپریم کورٹ اور حکومت میں ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کا اس وقت نکتہ نظر یہ ہے کہ اگر اچھی حکومت ہو، اچھا نظام ہو تو بہت سے مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے اور عدالت تک نہیں آئیں گے۔ اس وقت تو سرکار خود ہی سب سے بڑی مدعی اور مدعا علیہ ہے۔ تو اگر حکومت اچھی ہو تو لاکھوں مقدمے جو عدالت کے سامنے آتے ہیں‘۔
مبصرین کی جانب سے تنقید کی جاتی ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے خبر کی سرخیاں بنانے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے ۔ اس پر منیر ملک کا کہنا تھا کہ معاشرے میں آٓزادی کے کچھ سنگ میل ہوتے ہیں اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ اختیارات سے تجاوز کیا جا رہا ہے اور ممکن ہے کہ کسی جگہ ایسا ہوا بھی ہوگا، مگر یہ دیکھیں کہ نظرثانی حکومت کی کارکردگی پر کیا جاتا ہے حزبِ اختلاف کی نہیں۔
منیر ملک نے اس بات سے اتفاق کیا کہ عام رائے میں گمشدہ افراد کے مقدمے اور کسی کے خلاف فتوٰی جاری کرنے والوں کے خلاف اس طرح سے کارروائی نہیں کرتی مگر انہیں نے اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں یا وکالت کا پیشہ انقلابیوں کا نہیں ہوتا اور یہاں ارتقاء کا عمل بہت سست ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رفتار توقع سے کم ضرور ہے مگر اس کی سمت درست ہے۔
ججوں کو عوام کی جانب سے جو پذیرائی ملی ہے اس کے بعد اب شاید کوئی دیانت دار جج کسی غیر جمہوری عمل کی حمایت نہیں کرے گا۔
منیر ملک
ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں گو فرشتے نہیں بیٹھے مگر اگر کسی بھی طرح سے اس دور کاموازنہ ڈوگر دور سے کریں تو الزامات میں وہ شدت نہیں ہے جو پہلے تھی۔ یہ ضرور ہے کہ کچھ لوگوں کو اس کا مالی فائدہ بھی ہوا ہے مگر ایسا نہیں ہے کہ کوئی عدالت کا فیصلہ تبدیل کروا سکتا ہے۔
’میری رائے میں قانون سازی پارلیمان کا کام ہے اور کوئی اس میں مداخلت نہیں کرسکتا مگر کچھ یہ سمجھتے ہیں کہ عدالتیں نظرثانی کرسکتی ہیں، مگر بنیادی مقصد یہ ہے کہ عدالتیں آزاد ہوں۔‘
ایک سوال کے جواب میں کہ اگر پھر کوئی غیر جمہوری قوت آئی تو کیا ہوگا انہوں نے واضح کیا کہ عدالتوں کی خواہش نہیں ہے اور اگر حکومت کی کارکردگی ٹھیک ہو تو ماورائے ٓآئین اقدام کی نوبت نہیں ٓآئے گی ۔
منیر ملک نے کہا کہ ججوں کو عوام کی جانب سے جو پذیرائی ملی ہے اس کے بعد اب شاید کوئی دیانت دار جج کسی غیر جمہوری عمل کی حمایت نہیں کرے گا۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔