

ہیٹی میں گزشتہ منگل کو آنے والے زلزلے کے بعد پہلی مرتبہ متاثرین کو امداد کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
عالمی خوراک پروگرام کی جانب سے متاثرین میں خوارک کے پیکٹ اور آکسفیم کی جانب سے پانی تقسیم کیا گیا ہے۔
کلِک امدادی کاموں میں رکاوٹ کی وجہ کیا؟
امریکی فوج کا بھی کہنا ہے کہ انہوں نے پورٹ آف پرنس کے ہوائی اڈے کے باہر اپنا مرکز قائم کر لیا ہے جہاں سے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے امداد تقسیم کی جا رہی ہے۔ پورٹ او پرنس میں موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق اگرچہ تقسیم کی جانے والی امداد مقدار میں بہت کم ہے لیکن امداد کی فراہمی کے سلسلے کا آغاز خوش آئند ہے۔
ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے ترجمان ڈیوڈ وم ہرسٹ کا کہنا ہے کہ امداد کی فراہمی جتنی تیزی سے ممکن ہے اتنی ہی تیزی سے کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ امداد کی فراہمی جاری ہے لیکن چوبیس گھنٹے میں ان تمام افراد کو فوری طور پر خوراک مہیا کرنا ناممکن ہے۔ ان میں سے کچھ ایسی جگہوں پر ہیں جہاں رسائی ہی ممکن نہیں‘۔
امداد کی فراہمی جاری ہے لیکن چوبیس گھنٹے میں ان تمام افراد کو فوری طور پر خوراک مہیا کرنا ناممکن ہے۔ ان میں سے کچھ ایسی جگہوں پر ہیں جہاں رسائی ہی ممکن نہیں۔
ڈیوڈ وم ہرسٹ، یو این
ادھر زلزلے کے مرکز تک رسائی حاصل کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں دارالحکومت پورٹ او پرنس سے کہیں زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق لیوگین میں اسّی سے نوے فیصد عمارتیں زمیں بوس ہوئی ہیں۔
نامہ نگاروں کے مطابق دارالحکومت سے پندرہ کلومیٹر دور لیوگین کے علاقے میں قیامت کا منظر ہے،علاقے میں ہر عمارت تباہ اور ہزاروں افراد بےگھر ہو چکے ہیں۔ سنیچر کو علاقے کا دورہ کرنے والے بی بی سی کے مارک ڈوئل کا کہنا ہے کہ لوگ یا توگنے کے کھیتوں یا پھر مینگرووز میں پناہ لی ہوئی ہے۔ علاقے میں موجود ایک شخص کا کہنا ہے کہ وہ زلزلے سے قبل اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت کے لیے امریکہ سے ہیٹی آیا تھا اور زلزلے میں اس کی اہلیہ بھی ہلاک ہوگئیں۔ اس کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں موجود افراد کو کسی قسم کی امداد نہیں ملی ہے۔ ’ہمیں کچھ امداد نہیں ملی، نہ خوراک، نہ پانی، نہ طبی امداد اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر یہاں آیا ہے‘۔
اقوامِ متحدہ کے خوراک پروگرام کے ترجمان ڈیوڈ اور کے مطابق لیوگین میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ ’یہاں قریباً ہر گھر تباہ ہو چکا ہے فوج بیس سے تیس ہزار ہلاکتوں کی بات کر رہی ہے‘۔ امداد کی عدم دستیابی کی وجہ سے زلزلہ متاثرین نے اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر ملک کے دوسرے شہروں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

متاثرین میں خوارک کے پیکٹ اور پانی تقسیم کیا گیا ہے
اقوامِ متحدہ کے ایک افسر کے مطابق امدادی کارکنوں ایسی تباہی کا مقابلہ کر رہے ہیں جس کی اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
سنیچر کو پورٹ او پرنس کے کچھ علاقوں میں امداد تقسیم کی گئی ہے لیکن اب بھی امداد کی تقسیم میں لاجسٹک مسائل درپیش ہیں۔ پورٹ او پرنس کے ہوائی اڈے پر جگہ تنگ ہے جبکہ شہر کی بندرگاہ اور سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں یا پھر ملبے اور لاشوں سے اٹی ہوئی ہیں۔ اتوار کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ ایندھن کی کمی بھی امدادی کارروائیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ ادارے کی ایک ترجمان الزبتھ بائرز کا کہنا ہے کہ ’ایندھن کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں امداد لانے اور زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے ایندھن درکار ہے‘۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی صحیح تعداد تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے۔ پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں پچاس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہیں جبکہ ہیٹی کے وزیراعظم کے مطابق کم از کم ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
.ہلاک ہونے والوں میں ہیٹی کی کابینہ کے تین ارکان اور متعدد سینیٹرز بھی شامل ہیں۔اقوامِ متحدہ کے مطابق اس کے کم از کم چالیس ملازم زلزلے میں ہلاک ہوئے ہیں جن میں ہیٹی میں ادارے کے مشن کے سربراہ بھی شامل ہیں جن کی لاش سنیچر کو ملی ہے۔ ہیٹی کے وزیراعظم ژاں میکس بیلریو کے مطابق خود ان کا گھر زلزلے میں تباہ ہو گیا ہے اور وہ اپنی گاڑی میں شب بسر کر ہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم تاحال ان افراد کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں جو ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی اتوار کو ہیٹی پہنچ رہے ہیں جبکہ امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن ہیٹی میں زلزلے کے بعد کسی مغربی ملک کی وہاں پہنچنے والی پہلی اعلیٰ اہلکار بن گئی ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے سنیچر کو ہیٹی پہنچنے پر کہا کہ ان کے دورے کا مقصد نقصان کا بذاتِ خود جائزہ لینا اور ہیٹی کے عوام تک ’حمایت، یکجہتی اور ہمدری‘ کا پیغام پہنچانا ہے۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔