

ہیٹی میں امریکی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق زلزلے میں دو لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
لیفٹینٹ جنرل کن کین کے مطابق زلزے سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور تاہم ابھی تک اس میں ہلاکتوں کی حتمی تعداد کے بارے میں کہنا قبل از وقت ہو گا۔
لیفٹینٹ جنرل کن کین جو ہیٹی میں امریکی فوج کی جانب سے امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ زلزے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان ہے تو اس پر انھوں نے کہا کہ ’ ان کے خیال میں بین الاقوامی برادری اسی تعداد کو دیکھ رہی ہے اور ان کے خیال میں یہ صرف ابتداء ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق ہفتے کے اختتام پر مزید زندہ لوگوں کی ملبے سے نکالا گیا ہے تاہم اب تک ستر ہزار افراد کو دفنایا جا چکا ہے۔
کلِک امدادی کاموں میں رکاوٹ کی وجہ کیا؟
دوسری جانب بہت سارے شہری سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دارالحکومت پورٹ او پرنس چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہاں سے لوٹ مار ہنگامہ آرائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
ہیٹی میں موجود اقوام اور امریکی کی فوج کی مدد کے لیے پیر کو مزید دو ہزار امریکی فوجی ہیٹی پہنچ رہے ہیں۔ پیر کو ہی یورپی یونین نے ہیٹی میں تعمیر نو کے لیے بیس کروڑ یورو کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
ہفتے کے اختتام پر زلزے سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے نیچے سے مزید زندہ افراد کو نکلا گیا ہے۔ ان میں ایک سات سالہ خوش قسمت بچی بھی شامل ہے جنھیں ایک سپر مارکیٹ کے ملبے سے زندہ نکلا گیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کا دفتر جو زلزے سے تباہ ہو گیا تھا اس کے ملبے تلے دبے ڈنمارک کے اہلکار کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون کے اس جگہ کے دورے سے پندرہ منٹ پہلے زندہ نکلا گیا ہے۔
دوسری جانب ہفتے کے اختتام پر زلزے سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے نیچے سے مزید زندہ افراد کو نکالا گیا ہے۔ ان میں ایک سات سالہ خوش قسمت بچی بھی شامل ہے جنھیں ایک سپر مارکیٹ کے ملبے سے زندہ نکلا گیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کا دفتر جو زلزے سے تباہ ہو گیا تھا اس کے ملبے تلے دبے ڈنمارک کے اہلکار کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون کے اس جگہ کے دورے سے پندرہ منٹ پہلے زندہ نکلا گیا ہے۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ ملبے تلے افراد کے زندہ بچ جانے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہی ہیں لیکن ہیٹی میں جنوبی افریقہ کی امدادی ٹیم کے سربراہ کولن ڈائنر کا کہنا ہے کہ اب بھی لوگوں کے زندہ بچ جانے کے امکانات موجود ہیں۔’ ہم ایسی عمارتیں دیکھ رہے ہیں جن میں داخل ہونے کے کافی راستے اور خالی جگہ پر گری ہیں وہاں ہمارے پاس زیادہ اچھے مواقع ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ بہت سارے لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور بہت سارے ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں سے کچھ کے زندہ بچ جانے کے کافی روشن امکانات موجود ہیں۔

ملبے تلے افراد کو باہر نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں
ہیٹی میں گزشتہ منگل کو آنے والے زلزلے کے بعد پہلی مرتبہ متاثرین کو امداد کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔عالمی خوراک پروگرام کی جانب سے متاثرین میں خوارک کے پیکٹ اور آکسفیم کی جانب سے پانی تقسیم کیا گیا ہے۔
امریکی فوج کا بھی کہنا ہے کہ انہوں نے پورٹ آف پرنس کے ہوائی اڈے کے باہر اپنا مرکز قائم کر لیا ہے جہاں سے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے امداد تقسیم کی جا رہی ہے۔ پورٹ او پرنس میں موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق اگرچہ تقسیم کی جانے والی امداد مقدار میں بہت کم ہے لیکن امداد کی فراہمی کے سلسلے کا آغاز خوش آئند ہے۔
ہیٹی میں کا مکرنے والی امدادی تنظیموں کا کہنا ہےکہ انھیں ائیر پورٹ کے ذریعے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔
امدادی تنظیم میڈیسن سانس فرنٹئیرز نے کمانڈروں پر زور دیا ہے کہ وہ ائیر پورٹ پر جہاز کو اتارنے کے عمل کو تیز کریں۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب سنیچر کی رات کو ایک ہوائی جہاز جس پر فیلڈ ہسپتال لدا ہوا تھا کو واپس موڑ دیا گیا۔
ائیر پورٹ کے امریکی انچارج کرنل بک ایلٹون کا کہنا ہے کہ جب سے انھوں نے ائیر پورٹ کا کنڑول سنبھالا ہے اس وقت سے لے کت اب تک چھ سو جہازوں نے ائیر پورٹ استعمال کیا ہے اور صرف پچاس فلائٹس کو واپس موڑا گیا ہے۔
ادھر زلزلے کے مرکز تک رسائی حاصل کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں دارالحکومت پورٹ او پرنس سے کہیں زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق لیوگین میں اسّی سے نوے فیصد عمارتیں زمیں بوس ہوئی ہیں۔
نامہ نگاروں کے مطابق دارالحکومت سے پندرہ کلومیٹر دور لیوگین کے علاقے میں قیامت کا منظر ہے،علاقے میں ہر عمارت تباہ اور ہزاروں افراد بےگھر ہو چکے ہیں۔ سنیچر کو علاقے کا دورہ کرنے والے بی بی سی کے مارک ڈوئل کا کہنا ہے کہ لوگ یا توگنے کے کھیتوں یا پھر مینگرووز میں پناہ لی ہوئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے خوراک پروگرام کے ترجمان ڈیوڈ اور کے مطابق لیوگین میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ ’یہاں قریباً ہر گھر تباہ ہو چکا ہے فوج بیس سے تیس ہزار ہلاکتوں کی بات کر رہی ہے‘۔ امداد کی عدم دستیابی کی وجہ سے زلزلہ متاثرین نے اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر ملک کے دوسرے شہروں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔
اتوار کو ہیٹی میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بانکی مون نے زلزلے سے ہوئی تباہی کو کئی دہائیوں میں سب سے تباپ کن قرار دیا۔ انھوں نے ہیٹی کی عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی۔
اقوامِ متحدہ کے ایک افسر کے مطابق امدادی کارکنوں ایسی تباہی کا مقابلہ کر رہے ہیں جس کی اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔